ایک مقامی خبر رساں ایجنسی اے پی آئی نے سرکاری ذرایع کے حوالے سے بتایا کہ حکومت جموں کشمیر کو مزید بیس ہزار کروڑ کی سرمایہ کاری کی تجاویز موصول ہوئی ہیں اور فائیو سٹار ہوٹل کے قیام کے علاوہ ایجوکیشن ،صحت ،زراعت ،ہینڈ لوم ،ٹوارزم اور فوڈ پرو سسنگ کے سلسلے والی ان تجاویز پر حکومت غور کرہی ہے لیکن یہاں عام لوگوں کی راے یہی ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ سب سے زیادہ ایجوکیشن اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دے کر یہاں زیادہ سے زیادہ علم کا نور پھیلانےکی کوششیں جاری رکھی جائیں۔کوئی بھی ملک یا قوم اس وقت تک ترقی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی ہے جب تک نہ اس قوم یا ملک میں علم کا نور پھیلایا جاے ۔بھارت میں جو ریاست تعلیم کے میدان میں سب سے اوپر ہے وہ ہے کیرالا کیونکہ اس ریاست میں سو فی صد تعلیم یافتہ لوگ ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں دوسری کئی ریاستیں یا مرکز کے زیر انتظام علاقے ایسے ہیں جہاں ناخواندگی کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے ۔کہا جارہا ہے کہ یوپی ،بہار ،اڑیسہ اور دوسری کئی ریاستوں میں ناخواندگی کی شرح بڑھتی جارہی ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لوگ حد سے زیادہ غریب ہیں اور غربت کی سطح سے نیچے گذر بسر کرنے والوں کے لئے تعلیم پہلی ترجیح نہیں جبکہ یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ لوگوں کو تعلیم کی جانب راغب کرنے کے لئے مسلسل کوششیں جاری رکھے ۔جہاں تک جموں کشمیر کا تعلق ہے گو یہاں اتنی غربت نہیں کہ لوگ تعلیم کو چھوڑ کر محنت مزدوری کو ترجیح دینگے لیکن پھر بھی محنت مزدوری کے ساتھ ساتھ تعلیم کے حصول کے لئے ایوننگ کلاسز شروع کئے جائیں۔جہاں تک بچہ مزدوری کا تعلق ہے تو اس بارے میں غالباًجموں کشمیر سب سے آگے ہے کیونکہ بے شمار دکانوں ،کارخانوں ،گھروں اور ورکشاپوں میں ہزاروں بچے ایسے ملینگے جن سے مزدوری کروائی جاتی ہے ان کو مناسب معاوضہ بھی نہیں دیا جاتا ہے ۔ایسے بچوں کو چھڑانے کی مہم سال مین غالباً ایک یا دو بار چلائی جاتی ہے بس اسی پر اکتفا کیا جاتا ہے ،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب تک نہ بچہ مزدوری پر قابو پایا جاے گا تب تک اس معاملے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے ۔دوسرا صحت کا شعبہ ہے جس کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے کل ہی محکمہ صحت کے ڈائیریکٹر نے ایک خصوصی نوٹفکیشن میں مختلف ہسپتالوں کے انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا انہوں نے اس نوٹفکیشن کے ذریعے ہسپتالوں کی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ ایسے سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی چھٹیوں کو منظور نہ کریں جب تک نہ وہ نائیٹ شفٹ میں کام نہیں کریں گے ۔غرض صحت کے شعبے کو از سر نو منظم کرنے کی ضرورتوں کے سلسلے میں سب سے زیادہ ہسپتالوں میں تعینات سپشلسٹ ڈاکٹر وں کی حاضری کا موثر انتظام کیا جانا چاہئے تاکہ وہ اپنی من مانیاں جاری نہ رکھ سکیں ۔کیونکہ عام لوگوں کا کہنا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں دوپہر کے بعد سپیشلسٹ ڈاکٹر نظر نہیں آتے ہیں ۔اس کے علاوہ عام شکایت یہ بھی ہے کہ ہسپتالو ں میں اہم اور لایف سیونگ ڈرگس دستیاب نہیں ہوتے ہیں غرض حکومت کو چاہئے کہ صحت شعبے کو منظم طریقے پر ترقی دینی چاہئے تب کہیں جاکر دوسرے شعبوں کی مضبوطی اور سرمایہ کاری کے بارے میں سوچا جاے ۔










