تقریباًڈیڑھ کروڑ آبادی کیلئے صرف5بڑے اسپورٹس اسٹیڈیم،2جموں3کشمیر میں واقع
ری نگر/ مردم زشماری 2011کے مطابق جموں وکشمیرکی آبادی ایک کروڑ25لاکھ سے زیادہ تھی ،جو ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزرجانے کے بعد اب تقریباًڈیڑھ کروڑتک پہنچ گئی ہوگی آبادی کے اعتبار سے اگر جموں وکشمیرمیں مختلف شعبوں کیلئے دستیاب سہولیات نیز بنیادی ڈھابچے کاجائزہ لیاجائے ،تو ملک کی دوسری ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوںکے مقابلے میں جموں کشمیر کافی پیچھے نظرآتاہے ۔اگست2019میں یونین ٹریٹری بننے کے بعد جموں وکشمیرکے مختلف سیکٹروں یا شعبوں میں بہتری لانے کے کئی اقدامات روبہ عمل لائے گئے ،جو کے فوائد نظر آرہے ہیں لیکن کھیل کے شعبے میں جموں وکشمیر ابھی بھی دقیانوسی سہولیات پرتکیہ کئے ہوئے ہے ۔جموں وکشمیر کی ایک کروڑ50لاکھ آبادی ،جس میں نوجوانوںکی شرح60فیصدسے زیادہ ہے ،میں صرف5بڑے اسپورٹس اسٹیڈیم موجود ہیں ،جن میں امر سنگھ کلب گراو¿نڈسری نگر، گورنمنٹ گاندھی میموریل سائنس کالج جموں، مولانا آزاد اسٹیڈیم جموں، بخشی اسٹیڈیم سری نگر اور شیر کشمیرکرکٹ اسٹیڈیم سری نگر شامل ہے۔لیفٹنٹ گورنر کی سربراہی والی موجودہ انتظامیہ کی توجہ کھیل کی بنیادی سہولیات پرمرکوز رہی ہے ،لیکن تاحال زمینی سطح پر کچھ اہم کھیلوں کیلئے درکاربنیادی ڈھانچے اورسہولیات کافقدان نظرآتاہے ۔جموں وکشمیرمیں تیراکی ،تیر اندازی ،بوکسنگ ،کشتی ،ٹینس ،ٹیبل ٹینس اور دیگر کچھ نئے کھیلوں کیلئے سہولیات موجودنہیں ہیں ۔ایسے بڑے کرکٹ اسٹیڈیم بھی موجودنہیں ،جہاں IPLیا بین الااقوامی سطح کے کرکٹ میچوںکاانعقاد کیاجاسکے جبکہ 80کی دہائی میں سری نگرکے بخشی اسٹیڈیم میں بھارت اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں کھیل چکی ہیں ۔7ستمبر2022کو ایل جی آفس سے ایک ٹویٹ میں جانکاری دی گئی کہ جموں و کشمیر اسپورٹس کونسل نے سری نگر کے مختلف علاقوں میں کل 12کھیلوں کے میدانوں، منی اسٹیڈیموں کو نوجوان صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے عالمی معیار کی سہولیات کے ساتھ اپ گریڈ کیا ہے تاکہ فٹ بال اور دیگر کھیلوں کی میراث کوفروغ دیاجائے ۔ساتھ ہی کہاگیاکہ جموں و کشمیر کی انتظامیہ تمام 20 اضلاع میں مختلف کھیلوں اور کھیلوں کے مقابلوں کے لیے 56کھیلوں کے اسٹیڈیم اور مراکز تعمیر کرے گی تاکہ خطے کے نوجوانوں کی کھیلوں کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جا سکے۔














