وادی کشمیر جو اپنے حسن اور قدرتی نظاروں کی وجہ سے پوری دنیا میں ایک خاص مقام رکھتی ہے کی طرف زیادہ سے زیادہ سیاح متوجہ ہورہے ہیں ۔گذشتہ کئی برسوں سے سیاحوں کی ریکارڈ توڑ آمد کا مشاہدہ کیا گیا ہے ۔جن میں غیر ملکی سیاحوں کی اچھی خاصی تعداد شامل تھی۔اگرچہ کئی ایک مغربی ملکوں کی طرف سے اپنے باشندوں کو جموں کشمیر کی سیاحت کے حوالے سے منفی ایڈوائیزری بھی جاری کی گئی ہے لیکن اس کے باوجود غیر ملکی سیاحوں کی اچھی خاصی تعداد وادی کی سیاحت پر آرہی ہے اور وہ بھی بغیر کسی خوف یا ڈر کے ۔اس بات کا مشاہدہ سال نو کی آمد پر کیا گیا ۔گلمرگ اور دوسرے کئی صحت افزا مقامات پر ہزاروں سیاحوں نے سال نو کی تقریبات میں حصہ لیا جن میں غیر ملکی سیاح بھی شامل بتائے گئے ۔اگرچہ سرکاری طور پرسال نو کی تقریبات سابق وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کے فوت ہونے کی وجہ سے نہیں منائی گئیں لیکن سیاحوں اور مقامی لوگوں نے نجی طور پر سال نو کا استقبال کیا اور مختلف نوعیت کے کلچرل پروگراموں کا انعقاد عمل میں لایا گیا ۔خاص طور پر گلمرگ تو سیاحوں سے بھری پڑی تھی ۔سیاحوں کی آمد سے جموں کشمیر میں مالی استحکام پیدا ہونے لگاہے کیونکہ جتنی زیادہ تعداد میں سیاح آینگے اس سے نہ صرف سیاحت سے وابستہ کاروباریوں ،ٹرانسپورٹروں ،ہاوس بوٹ اور ہوٹل اونرس وغیرہ کی آمدن بڑھ جاتی ہے بلکہ اس کا اثر پورے سماج پر پڑتا ہے اور ہر طبقے کی مالی ضروریات میں بھی سیاحوں کا اہم حصہ ہوتا ہے ۔غرض سیاحوں کی آمد سے یہاں ہر طبقہ مستفید ہوتاہے ۔ غیر ملکی سیاحوں میں کشمیر کی مقبولیت عام ہورہی ہے اور سال رفتہ کے دوران تین ملین سیاحو ں نے کشمیر کی سیر کی ۔ زیادہ سے زیادہ سیاح یہاں آنے کو ترجیح دینے لگے ہیں جو ایک خوش آیند علامت ہے ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس سال سردیوں میں بھی اتنی تعداد میں سیاح یہاں آئے جتنی اُمید نہیں تھی۔ادھر سیاحت سے وابستہ لوگوں اور عام شہریوں نے ہوائی کرایہ کی شرحوں میں اضافے کو وادی کے لوگوں کے ساتھ ظلم قرار دیا ہے ۔کہا جارہا ہے کہ بڑھتی ہوئی کرایہ شرحوں کے نتیجے میں سیاح اب یہاں آنے سے کترانے لگے ہیں ۔یہاں کے ایک معاصر انگریزی روزنامے نے اپنی خصوصی رپورٹ میں لکھا ہے کہ دہلی سے دوبئی تک کشمیر کے مقابلے میں بہت کم کرایہ کی شرحیں ادا کرنا پڑتی ہین ۔ان حلقوں کا کہنا ہے کہ اس صورت میں سیاح کیونکر کشمیر کی سیر کرنا پسند کریں گے جبکہ وہ اس سے کم کرایہ ادا کرکے دوبئی جاسکتے ہیں ۔بعض ٹور اوپریٹرس نے انکشاف کیا ہے کہ سیاحوں نے صرف اس وجہ سے بکنگ منسوخ کی ہے کیونکہ وہ اتنی کرایہ ادا نہیں کرسکتے ہیں جتنی کرایہ کی شرحیں ائیر کمپنیوں نے مقرر کررکھی ہیں ۔یہ کشمیر کی سیاحت کے لئے سیٹ بیک ہوسکتاہے جس کی طرف حکومت کو توجہ دینی چاہئے اورائیر کمپنیوں کو اس بات کا پابند بنایا جانا چاہئے کہ وہ مقررہ کرایہ سے زیادہ وصول کرنے کی کوشش نہ کریں ۔اگر ناجائیز منافع خوری کی پاداش میں کئی ایک ہوائی کمپنیوں کے خلاف کاروائی بھی کی جاتی تو اس سے ہوسکتاہے کہ کرایہ کی شرحوں میں کمی کی جاتی۔شہر ی ہوا بازی کے مرکزی وزیر ،وزیر سیاحت اور ٹوارزم سیکریٹری کے نام ٹور اوپریٹرز نے مکتو ب روانہ کئے ہیں جن میں ان سے کہا گیا کہ وہ فوری طور اس معاملے میں مداخلت کریں تاکہ کشمیر کی سیاحت پر منفی اثرات مرتب نہ ہوسکیں ۔












