آج محرم الحرام کی 9ویں تاریخ ہے اور کل یوم عاشورہ ہے ۔اس موقعے پر عزاداری کے بڑے بڑے جلوس نکالے جاتے ہیں اور ماتمی مجالس بھی منعقد کی جاتی ہیں جن میں امام عالی مقام ؓ اور دیگر شہدائے کربلا کو عقیدت کا خراج ادا کیا جاتاہے ۔اس سے پہلے یعنی کل سوموار کو 8ویں محرم کے جلو س جو گروبازار سے نکل کر ڈل گیٹ میں اختتام پذیر ہوتاہے کو نکلنے کی اجازت دے کر انتظامیہ نے ایک مثبت قدم اٹھایا ہے جس کی ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں اور خاص طور پر اہل تشیعہ نے سراہنا کی ہے ۔سوموار کو صبح سویرے جلوس گرو بازار سے نکل کر ڈل گیٹ میں اختتام پذیر ہوا ۔جلوس بالکل پر امن رہا اور جلوس میں شامل عزا دار مرثیہ خوانی کرتے رہے ۔کسی قسم کی لااینڈ آرڈر کی پرابلم نہیں ہوئی اور سب کچھ نظم و ضبط کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔اس سے قبل ڈپٹی کمشنر کو اس بات کا یقین دلایا گیا کہ عزا داری کے جلوس برآمد کئے جانے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ شہدائے کربلا کو ان کی عظیم قربانیوں کے لئے ان کو خراج عقیدت ادا کیا جاسکے ۔عزادار محرم کے جلوسوں اور مجالس میں شامل ہوکر امام عالی مقام اور ان کے دیگر شہدائے کربلا کی قربانیوں کو یاد کرکے آہ و زاری کرتے ہیں ۔بے دریغ آنسو بہاتے ہیں اور اظہار افسوس کرتے ہیں ۔اس سارے عمل کا سیاست یا کسی اور طرز نظام وغیرہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔یہ سب کچھ شہدائے کربلا کے تیئں ایک عقیدت ہے جس کا اظہار جلسے جلوسوں اور مجالس میں کیا جاتا ہے ۔اہل تشعیہ کی ہر جماعت نے پہلے ہی اس بات کو واضع کیا ہے کہ محرم الحرام میں وہ شہدائے کربلا کی قربانیوں کو یاد کرکے ماتم مناتے ہیں اس کا سیاست وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں اور اگر کوئی اس موقعے کو سیاسی مقاصد کےلئے استعمال کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کے خلاف کاروائی کی جانی چاہئے ۔بہر حال سب کچھ اب تک ڈسپلن کے تحت رہا ۔اب کل یوم عاشورہ ہے اور لوگ چاہتے ہیں کہ عاشورہ محرم کو ذوالجناح کا جو جلوس نکالا جاتا ہے اسے روائیتی راستوں سے چلنے کی اجازت دی جانی چاہئے ۔یہ جلوس صبح سویرے آبی گزر سے شروع ہوکر تقریباً شام کو زڈی بل پہنچ کر اختتام پذیر ہوتا تھا پھر اس کے بعد مقامی امام بارگاہ میںحسینی مجالس کا انعقاد کیا جاتاہے ۔اب انتظامیہ سے اپیل کی گئی کہ عاشورہ محرم کے جلوس کو روایتی راستوں سے چلنے کی اجازت دی جانی چاہئے ۔کیونکہ گزشتہ تیس برسوں سے یوم عاشورہ کے روایتی راستوں سے چلنے والے جلوس پر پابندی عاید ہے ۔جس کے بعد عاشورہ محرم کا جلوس زڈی بل اور اس کے گرد و نواح سے نکال کر مقامی امام بار گاہ میں اختتام پزیر ہوتا رہا ہے اور اب انتظامیہ سے اپیل کی گئی کہ عاشورہ محرم کے جلوس کو روایتی راستوں سے نکلنے کی اجازت دی جائے ۔انتظامیہ اس حوالے سے کس طرح کا طرز عمل اختیار کرتی ہے ۔آیا عاشورہ محرم کے جلوس کو روایتی راستوں سے نکالنے کی اجازت دی جاتی ہے یا نہیں اس بات کی جانکاری آج دن کو مل سکتی ہے ۔اس سے قبل ان ہی کالموں میں لکھا جاچکاہے کہ جن راستوں سے عاشورہ محرم کا جلوس نکالاجاے گا ان راستوں پر پانی اور دیگر مشروبات کا مکمل انتظام کیا جانا چاہئے ۔اگرچہ رضاکار تنظیموں کی طرف سے اس حوالے سے چھوٹے چھوٹے سٹال لگائے جاتے ہیں جن میں عزاداروں اور دیگر لوگوں کے لئے پانی اور دیگر مشروبات تقسیم کی جاتی ہیں لیکن حکومت کو اس حوالے سے انتظامات کرنے چاہئے ۔











