گذشتہ کچھ دنوں سے وادی اور خطہ چناب میں لینڈ سلاینڈنگ کے جو واقعات رونما ہوے ہیں ان میں اگرچہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن کروڑوں روپے کے مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔کل ہی دمحال ہانجی پورہ سے لینڈ سلائینڈنگ کی اطلاع ملی ہے جس میں کئی مکان اور دکانیں تباہ ہوگئی ہیں جس وقت پسیاں اور مٹی کے تودے گرنے لگے اس وقت مقامی لوگ سہم گئے اور محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا البتہ چند ایک دکانوں اور مکانوںکا بھاری نقصان ہوا ہے ۔بعد میں ضلع انتظامیہ نے موقعے پر پہنچ کر حالات کا جائیزہ لیا بلڈوزر کی مدد سے راستے سے ملبہ ہٹاکر اسے آمد و رفت کے قابل بنادیا گیا ۔نقصان کا جائیزہ لیا عام لوگوں نے اسُ وقت متعلقہ ضلع حکام سے استدعا کی کہ متاثرین کی بھر پور امداد کی جاے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ مقامی لوگ اسے ناکافی تصور کریں۔اسلئے متاثرین کی بھر پور مدد کی جاے ۔ادھر اس سے قبل ریزن گنڈ کنگن میں بھی شام کے وقت لینڈ سلاینڈنگ کی وجہ سے کہرام مچ گیا اگرچہ اس واقعے میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن بہت سی دکانیں ،مکان اور دوسرے ڈھانچے اس کی زد میں آکر تباہ ہوگئے اور ان مکانوں میں رہنے والے مکین کھلے آسمان کے نیچے آگئے ۔ان کا سب کچھ تباہ برباد ہوگیا اور جو دکانیں اس دوران تباہ ہوگئیں ان میں موجود مال واسباب بھی ختم ہوکر رہ گیا۔یعنی بہت سے دکاندار بیروزگار بن گئے ان کا کوئی قصور نہیں ۔رام بن سنگلدان میں بھی کچھ دن قبل اسی طرح زمین دھنسنے سے تقریباً ایک درجن مکانوں میں دراڑیں پڑ گئیں اور مکین بے گھر ہوگئے ۔اس سے قبل بھدرواہ چھاترو میں بھی اسی طرح کا واقعہ پیش آیا چنانچہ ماہرین کی ٹیموں نے متاثرہ مقامات کا دورہ کیا اور جو کچھ انہوں نے پایا اس کی رپورٹ مرتب کی گئی ۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ لینڈ سلائینڈنگ اور زمین دھنسنے کے واقعات کیونکر پیش آرہے ہیں ۔اور اگر موجودہ موسم یعنی بارشوں کے موسم میں ایسا قدرتی امر ہے تو پھر ایسا انتظام کیا جانا چاہئے کہ اس سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہ ہونے پاے۔لیکن افسوس ایسا نہیں کیاجارہا ہے ۔عام لوگ یہ مشاہدہ کررہے ہیں کہ ہر جگہ ڈھلوانوں پر اس طرح تعمیراتی ڈھانچے تعمیر کئے گئے جو کسی بھی وقت پسیاں یا چٹانوں کی زد میں آسکتے ہیں۔مکان یا دکانیں بنانے میں کوئی حرج نہیں لیکن مکان یا دکان یا کوئی دوسرا ڈھانچہ تعمیر کرنے سے پہلے ان لوگوں کو دیکھنا چاہئے کہ وہ اگر اتنا پیسہ خرچ کررہے ہیں تو کہیں ان کے یہ ڈھانچے موسم کی مار سہہ سکتے ہیں؟ان کو مکان یا دوسرے ڈھانچے تعمیر کرنے سے پہلے ماہرین کی خدمات حاصل کرنی چاہئے تھی۔اس کے بعد ہی تعمیراتی کام شروع کرنا چاہئے سرکاری طور پر ایسے لوگوں کو صلاح و مشورہ فراہم کرنے کے لئے ٹیم مقرر کرنی چاہئے جو پہاڑوں کے دامن یا ڈھلوانوں پر مکان یا دوسرے اسی نوعیت کے ڈھانچے تعمیر کرنے کے خواہشمند ہونگے ۔غرض ہم سب کو موسم کی مار کا سامنا کرنے کے لئے تیاریاں کرنی چاہئے ۔جس کے لئے ہر صورت میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے اور کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہئے جس سے موسم کی تباہ کاریوں کے شکار ہوکر مالی نقصان کے ساتھ ساتھ لوگوں کو جانی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔











