ایک بوڑھا بڑا عقلمند تھا۔ ایک بار وہ سفر کیلئے روانہ ہوا، اس دوران اس کے پاس جو کچھ کھانے کو میسر تھا وہ ختم ہوچکا تھا۔ اس نے ایک دروازہ کھٹکھٹایا۔ کھانے کیلئے کچھ مانگا مگر باورچی نے انکار کر دیا۔ پھر بوڑھے نے ایک ترکیب سوچی اورکہتے ہیں کہ آئرلینڈ میں کسی زمانے میں ایک بوڑھا رہتا تھا۔ وہ تھا بڑا عقلمند۔ وہ ایک بار دور دراز کے سفر پر روانہ ہوا۔ اس کے پاس جو کچھ تھا سب ختم ہوگیا۔ اب تو وہ بھوکا رہنے پر مجبور تھا۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا تھا کہ کیا کرے۔ اور بھوک تھی کہ برابر بڑھتی جا رہی تھی۔ اِدھر بارش ہونی شروع ہوئی تو رکنے کا نام نہیں لیتی تھی۔ اس کے تمام کپڑے پانی سے تر ہوگئے۔ رات ہوگئی تھی اور ابھی تو ا±سے بہت دور جانا تھا۔ کچھ دور پر اسے ایک روشنی دکھائی دی، ”ارے یہاں تو کوئی رہتا ہے۔“ اس نے غور سے دیکھا اور ذرا قریب گیا تو پتہ چلا کہ یہ تو شاندار مکان ہے۔ وہ ہمت کرکے مکان کے قریب چلا گیا۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ دروازہ کھلا۔ یہ رسوئی گھر تھا۔ باورچی نے کہا، ”تم کو مجھ سے کیا کام ہے؟“
بوڑھے نے کہا، ”مَیں بہت بھوکا ہوں۔ مجھے کچھ کھلاو?۔“ باورچی نے کہا، ”مجھے ابھی بہت کام ہے۔ ابھی مجھے مرغ کا گوشت پکانا ہے۔ مالک کے آنے کا وقت ہوگیا ہے۔ تم یہاں سے بھاگ جاو?۔“
بوڑھے نے خوشامد کرتے ہوئے کہا، ”اچھا تو مجھے اپنے کپڑے سکھا لینے دو۔ دیکھتے نہیں مارے سردی کے تھرتھر کانپ رہا ہوں۔ اور بہت تھک گیا ہوں۔ ذرا میرے اوپر رحم کرکے مجھے اتنی اجازت دے دو کہ مَیں تمہارے چولہے کے سامنے بیٹھ جاو?۔ بس میں تھوڑی دیر بیٹھوں گا۔“
”اچھا تو تم چولہے کے پاس بیٹھ جاو?، لیکن میرا وقت خراب مت کرو۔ چ±پ چاپ بیٹھو۔“ وہ بوڑھا ”شکریہ“ کہہ کر ا?گ کے پاس بیٹھ گیا۔ ا?گ تیز تو تھی ہی، اس کے کپڑے سوکھ گئے۔ اور اس کے بدن میں گرمی ا?ئی۔ اب اس کی بھوک اور بڑھ گئی۔ ا?خر اس نے اپنے دماغ پر زور ڈالا۔ اور اس کی سمجھ میں ایک ترکیب ا?ئی۔ اس نے باورچی سے کہا، ”تم جانتے ہو، مَیں بہت اچھا باورچی ہوں۔ مَیں بہت اچھا سوپ تیار کرسکتا ہوں۔ اور اس میں خرچ بھی کم ہوتا ہے۔ اسے پتھر سے تیار کرتے ہیں۔“ ”پتھر کا سوپ! مَیں نے تو ایسے سوپ کا نام بھی نہیں سنا۔ تم کیسے بناتے ہو؟“ ”اس میں کیا مشکل ہے؟ مَیں ابھی تم کو دکھاتا ہوں۔ لاو? مجھے ایک ہانڈی دو، اور تھوڑا سا پانی۔ مَیں پکا کر تم کو سکھا دیتا ہوں۔ پھر تم بھی پکاتے رہنا۔“
باورچی نے اسے ہانڈی اور پانی دے دیا۔ بوڑھے نے ہانڈی میں تھوڑا پانی بھر کر ا?گ پر رکھ دیا، پھر اس نے ایک صاف ستھرا پتھر جیب سے نکالا اور اچھی طرح دھو کر ہانڈی میں ڈال دیا۔ جب پانی کچھ گرم ہوگیا تو اس نے ذرا سا پانی لے کر چکھا، اور بولا، ”بڑا مزیدار سوپ ہے۔ بس ذرا نمک پڑے گا۔ تم جانتے ہو کہ نمک تو ہر کھانے میں ہونا ضروری ہے۔“ باورچی نمک لینے گیا۔ سامنے میز پر کچھ سبز ترکاری رکھی تھی۔ بوڑھے نے بڑھ کر کچھ ترکاری بھی ڈال دی۔ اتنے میں باورچی نے نمک لا کر دیا۔ بوڑھے نے ہانڈی کو دیکھا، ”بڑا اچھا سوپ تیار ہونے والا ہے۔ بس ذرا سا پیاز، لہسن اور پڑے گا۔“
باورچی نے کہا، ”تم اسے دیکھتے رہو، کہیں زیادہ نہ پک جائے، مَیں ابھی پیاز اور لہسن لا کر دیتا ہوں۔“ اور ذرا سی دیر میں باورچی نے اسے کچھ پیاز، لہسن اور مرچ لا کر دیئے۔ بوڑھے نے پیاز، لہسن اور مرچ کاٹ کر ہانڈی میں ڈال دیئے۔ اب ہانڈی میں سے بڑی اچھی خوشبو ا?ئی۔ ”کتنا اچھا سوپ تیار ہوا ہے۔ بس اسے ذرا سا چلانے کی ضرورت ہے۔“
باورچی نے کہا، ”تم فکر مت کرو، مَیں ابھی تم کو بڑا چمچہ لا کر دیتا ہوں۔“ بوڑھے نے کہا، ”نہیں، اس کی ضرورت نہیں۔ پتھر کے سوپ کی ہانڈی چمچے سے نہیں چلائی جاتی۔ یہ سامنے جو گوشت رکھا ہے اگر تم کہو تو مَیں اس میں جو بڑی ہڈی پڑی ہے اس سے اپنی ہانڈی چلا لوں۔“ باورچی نے کہا، ”ضرور، ضرور۔“ اس نے ایک بڑی سی ہڈی اٹھا لی۔ جس کے سرے پر کافی گوشت لگا ہوا تھا، اور اس سے ہانڈی کو چلانا شروع کر دیا۔ وہ ہانڈی چلاتا جاتا تھا اور باورچی سے باتیں کرتا جاتا تھا۔ باورچی بھی بڑے غور سے ہانڈی کو دیکھ رہا تھا۔ اور اس کی باتیں سن رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اگر یہ سوپ اچھا ہوا تو میں اس ترکیب سے پتھر کا سوپ پکا کر لوگوں کو دکھاو?ں گا اور حیرت میں ڈال دوں گا۔ اور لوگ میرا سوپ پینے کیلئے دور دور کے ملکوں سے ا?یا کریں گے۔“ بوڑھے نے کہا، ”سوپ تو اچھا ہے۔ البتہ ذرا پتلا ہے۔ اس لئے اگر تمہارے پاس کچھ ا?ٹا ہو تو مجھے دے دو۔ اس کو ڈال کر سوپ کو گاڑھا کر دوں۔ باورچی نے اسے تھوڑا سا ا?ٹا دے دیا۔ اس نے یہ ا?ٹا بھی ہانڈی میں ڈال دیا اور ہڈی سے چلاتا رہا۔ اور تھوڑی دیر کے بعد چکھ کر بولا، ”بھائی ذرا سی کسر ہے ورنہ مجھے یقین ہے کہ تم نے ایسا سوپ کبھی چکھا بھی نہ ہوگا۔“ باورچی نے کہا، ”نہیں بھائی مَیں کہاں چکھتا۔ اور مجھے تو حیرت ہے کہ پتھر کا سوپ بھی تیار ہوسکتا ہے۔ مگر اب کیا کسر رہ گئی ہے؟“ بوڑھے نے کہا، ”اگر اس وقت کہیں ذرا سا مکھن اور بوند بھر دودھ ہوتا تو ہم یہ پتھر کا سوپ بادشاہ کو بھی پیش کرسکتے تھے۔“
باورچی نے کہا، ”ذرا ٹھہرا۔ میرے پاس مکھن اور دودھ دونوں ہیں۔“ ذرا سی دیر میں اس نے مکھن اور دودھ لا کر دے دیا۔ بوڑھے نے اسے بھی ہانڈی میں ڈال دیا۔ اور خوب اچھی طرح پھینٹنے لگا۔ ہانڈی میں سے اب اور اچھی خوشبو ا±ٹھنے لگی۔ بوڑھے نے کہا، ”اتنا شاندار سوپ تیار ہو رہا ہے۔ تم کہو تو یہ مرغی کا گوشت بھی اس میں ڈال دو تاکہ کوئی کمی نہ رہ جائے، اس پتھر کے سوپ میں۔“ باورچی تو غور سے ٹکٹکی باندھے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ اسے تو د±نیا کی اور کسی چیز کا خیال نہ تھا۔ بوڑھے نے ا±سے اپنی باتوں میں ایسا لگایا کہ اس نے کہا، ”ضرور، ضرور۔“ اب بوڑھے نے مرغی کا سارا گوشت ہانڈی میں ڈال دیا۔ اور باورچی سے بولا، ”بس اب ذرا سے صبر کی ضرورت ہے۔ تم دیکھنا کتنے مزے کی ہانڈی تیار ہوتی ہے۔ اب تو تمام رسوئی گھر میں ہانڈی کی خوشبو پھیل رہی ہے۔“
بوڑھے کے ساتھ باورچی کی بھوک بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ ذرا سی دیر کے بعد ہانڈی تیار ہوئی۔ اور بوڑھے نے چکھ کر کہا، ”لو دیکھو! کتنے مزے کا سوپ تیار ہوا ہے۔“ باورچی نے کہا، ”اور وہ بھی پتھر کا۔“ بوڑھے نے کہا، ”یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔ مَیں تم کو کمال تو اب دکھاتا ہوں۔“ یہ کہہ کر اس نے ہانڈی میں سے پتھر نکال لیا۔ اور دھو کر کہا، ”دیکھو یہ پتھر ابھی جوں کا توں موجود ہے۔“ باورچی یہ دیکھ کر حیرت میں پڑ گیا۔ اس کے بعد دونوں نے ا?دھا ا?دھا سوپ پیا۔ باورچی کو خوب مزہ ا?گیا۔ اس نے کہا، ”مَیں نے ایسا سوپ اپنی پوری زندگی میں کبھی نہیں پیا تھا۔“ بوڑھے نے بھی خوب ڈٹ کر سوپ پیا۔ اب بارش رک گئی۔ بوڑھے نے باورچی سے جانے کی اجازت مانگی۔ باورچی نے کہا، ”میرے پاس ایک پونڈ ہے۔ تم مجھے یہ پتھر دے دو۔ مَیں عمر بھر تمہارا احسان مانوں گا۔“ بوڑھے نے وہ پتھر باورچی کو دیدیا اور پونڈ جیب میں ڈال کر چلتا بنا اور سوچنے لگا کہ ”لوگ ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ عقل بڑی ہوتی ہے نہ کہ بھینس۔“ جب ذرا باہر نکل گیا تو باورچی کو ا?واز دے کر بولا، ”کیوں بھائی ہانڈی پکانے کی ترکیب تو ا?گئی۔“ ”ہاں۔ اور کیا۔ اب تو مَیں خود پکا سکتا ہوں۔ تم فکر مت کرو۔ تمہارا بہت بہت شکریہ۔ کتنا مزے کا ہوتا ہے پتھر کا سوپ۔












