جموں کشمیر میں پلگرم ٹوارزم کے لئے کافی گنجایش موجود ہے اس سے روزگار کے مواقع بھی بڑھینگے اور زیادہ سے زیادہ نوجوان اس سے وابستہ ہوکر اپنے اور اپنے خاندان کے لئے روزگار کمانے کے وسیلے بن جاینگے ۔یہ بات منوج سنہا نے ویشنو دیوی مندر کے دورے کے دوران بتائی انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر میں پلگرم ٹوارزم کے لئے کافی گنجایش موجود ہے اور اگر اس کو EXPOLITEکیا جاے گا تو زیادہ سے زیادہ عقیدت مند یہاں آینگے اور اس طرح یہاں آمدنی کے وسایل بھی بڑھ جاینگے ۔جہاں تک جموں کشمیر کا تعلق ہے یہ ایک پہاڑی خطہ ہے جہاں خوبصورت مقامات کی بھر مار ہے اور سب قدرتی ،بل کھاتی ندیاں ،لہلہاتے کھیت ،گیت گاتے جھر نے ،آسمان سے باتیں کرتی ہوئی برفانی چوٹیاں ،سر سبز اور ہرے بھرے مرغزار ،جھیلوں کا بلوریں پانی ،یہ وہ خطہ ہے جہاں کی صبح انواع و اقسام کے پرندوں کی چہچہاہٹ سے شروع ہوتی ہے اور شام کو ان ہی پرندوں کے غول کے غول ٹکڑیوں میں شور مچاتے اپنے آشیانوں کی طرف جاتے ہیں۔یہ وہ خطہ ہے جہاں ہوا کی سرسراہٹ دل میں گد گدی پیدا کردیتی ہے اور اس خطہ ارض میں رہنے والے لوگ انتہائی سادہ زندگی گذارتے ہیں ۔اس خطہ ارض میں فرقہ وارانہ امن و اتحاد کے نظارے وقتاًفوقتاًدیکھنے کو ملتے ہیں ۔سیاحت یہاں کی اکانومی کے لئے ریڈ ھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔لوگ یہاں آکر قدرت کے نظاروں سے جہاں محضوظ ہوتے ہیں وہیں دوسری طرف بعض اپنے اپنے عقیدے کے حوالے سے اپنے مذہبی فرایض بھی انجام دیتے ہیں۔وادی کی سیاحت پر آنے والوں میںایڈونچر پسند بھی ہوتے ہیں کوہ پیمائی کرتے ہین اور اپنی صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کرکے ان میں سے کئی ایک نے قومی سطح پر کوہ پیمائی میں کافی نام کمایا ہے ۔غرض یہاں جو سیاح آتے ہین ان میں سب کے سب قدرتی نظارون سے لطف اندوز ہونے ہی کیلئے نہیں بلکہ سیاحت کے ساتھ دوسرے دلچسپی کے معاملات میں بھی وہ اپنا وقت صرف کرتے ہیں۔چنانچہ موجودہ انتظامیہ جس کی قیادت ایل جی منوج سنہا کررہے ہیں نے پلگرم ٹوارزم اور ایڈونچر ٹوارزم کو بڑھاوا دینے کی کوششوں کا آغاز کیا ہے یعنی جو لوگ کسی مخصوص مذہبی مقامات پر حاضری دینے کے خواہشمند ہوتے ہیں ان کے لئے اچھی خاصی سہولیات مہیا رکھی جاینگی جبکہ ان لوگوں کو بھی حکومت کی طرف سے مزید مراعات سے نوازا جاے گا جن کا مقصد کوہ پیمائی یا کھیلوں سے وابستہ ہونا ہوتا ہے ۔غرض وادی میں ہر طرح کی سیاحت کو بڑھاوا دینے کیلئے حکومت کوشاں ہے اور چاہتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ باہر کے لوگ وادی کی سیاحت پر آئیں چاہے ان کا مقصد کچھ بھی ہو ان کو ہر طرح کی مراعات ،سہولیات وغیرہ فراہم کرنے کے لئے حکومت وعدہ بند ہے ۔اس سے کشمیر کی اکانومی کو استحکام حاصل ہوگا لوگوں کا معیار حیات بلند ہوگا۔لیکن حکومت کو اس مقصد کے لئے اپنے وعدوں کا بھر پور پاس لحاظ رکھنا ہوگا تاکہ سیاحوں کو اس بات کا احساس ہوگا کہ واقعی حکومت جموں کشمیر سیاحت کو بڑھاوا دینے کے لئے ہر ممکن اقدام کررہی ہے اور جو کچھ وعدے کئے جارہے ہیں ان کو پورا کیا جاتاہے ۔











