نیشنل گرین ٹریبونل کی طرف س بار بار دی گئی ہدایات کو نظراند از کرنے کے عمل پر ٹریبونل نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوے بلدیاتی اداروں کی کارکردگی کو اس حوالے سے انتہائی ناقص قرار دیا اور کہاکہ حکومت کے یہ ادارے لگتا ہے کہ ماحولیات کو تحفظ فراہم کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں ۔چنانچہ گرین ٹریبونل کی طرف سے دی گئی ڈانٹ پھٹکار کے بعد یہاں بلدیاتی اداروں نے فوری طور پر ویسٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور انتظامیہ نے اس سارے منصوبے کی عمل آوری کے لئے دوسو کروڑ روپے کی رقم مختص رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔کہا جارہا ہے کہ اس منصوبے پر جنگی بنیادوں پر اقدامات کئے جارہے ہیں اور اس مہینے یعنی جنوری مہینے میں گاندربل ،سبمل اور دوسرے کئی علاقوں میں ویسٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ نصب کئے جاینگے ۔کہا جارہا ہے کہ رواں برس کے مارچ تک سولہ بڑے شہروں تک ان کا دائیرہ وسیع کیا جاے گا۔جبکہ آنے وا لے سیزن میں اس حوالے سے سیاحتی مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں ماحول کو بالکل ساز گار بنانے کی ضرورت ہے اور اسے یعنی ماحولیات کو تحفظ فراہم کرنے کا عمل ترجیحات میں شامل ہونا چاہئے ۔سرکاری ذرایع کے مطابق ستمبر کے آخرتک شہروںاور قصبہ جات میں ویسٹ ٹریمنٹ پلانٹ دستیاب ہونگے ۔سرکار کی جانب سے بتایا گیا کہ ان ٹریمنٹ پلانٹوں کو قایم کرنے پر دو سو کروڑ مختص ہونگے ۔حکومت نے نیشنل گرین ٹریبونل کی طرف سے صحت و صفائی اور ماحولیات کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے اس ادارے کی طرف سے بنائے گئے قواعد و ضوابط پر من و عن عمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔وادی کے تمام بڑے شہروں،قصبہ جات میں کوڑے کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کے لئے جدید طریقے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔اس سے ماحولیات کو آلودگی سے بچایا جاسکتا ہے جبکہ لوگوں کو گلوبل وارمنگ سے بھی محفوظ رکھا جاسکتا ہے ۔اگرچہ سرکاری طور پر یہ سب کچھ کیاجارہا ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ لوگ ابھی تک گھروں سے باہر گلی کوچوں اور سڑکوں پر کوڑا کرکٹ پھینکتے ہیں اور اس بات کا ان کو کوئی احساس نہیں ہوتا ہے کہ اس سے کس قدر گندگی غلاضت پھیلتی ہے اور ایسا عمل ماحول کے لئے کس قدر مضر رساں ہے ۔اسلئے اگر ہم سب کو بیماریوں اور ناگہانی آفات سے بچنا ہے تو ایسے اقدامات اٹھانے چاہئے جن سے ماحولیات اور آس پاس کا ماحول کسی بھی طور گندہ نہ ہونے پائے ۔جتنی گندگی اور غلاضت پھیلائی جاے گی یا کوڑا کرکٹ غیر منظم طریقے پر سڑکوں اور گلی کوچوں میں ڈالا جاے اتنا ہی صحت کے لئے مضر ہے اور اسی قدر بیماریاں پھیل جاینگی ۔ہم سب کو اس جانب اپنی ذمہ داریاں انجام دینی چاہئے یعنی ہم کو ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہئے جس سے ماحولیات پر منفی اثرات مرتب ہونگے ۔بلدیاتی اداروں کو فوری طور پرایک منظم اور مربوط لائیحہ عمل مرتب کرکے اس بارے میں تشہیری مہم چلانی چاہئے تاکہ لوگوں کو اس حوالے سے باخبر کیا جاے کہ انہیں کس طرح ماحول کو محفوظ رکھنا ہے ۔










