نل ہے پر جل نہیں ۔پوری وادی اور خاص طور پر شہر سرینگر میں لوگوں کو پانی کی ایک بھی بوند میسر نہیں ۔شہر کے کسی بھی علاقے کو لیجئے لوگ محکمہ واٹر ورکس جسے اب محکمہ جل شکتی کا نام دیا گیا ہے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ مرکز نے ہر گھر نل لگایا لیکن کم از کم شہر سرینگر میں جل کا کہیں نام و نشان تک نظر نہیں آرہا ہے ۔لوگ غضب کی اس گرمی میں انتہائی پریشان کن صورتحال سے دوچار ہیں جبکہ دوسری طرف بجلی کا بھی ایسا ہی کچھ حال ہے ۔چاہئے میٹر والے علاقے ہوں یا بغیر میٹر کے ،بجلی کی حالت روز بروز ابتر ہوتی جارہی ہے ۔صبح شام کے علاوہ دن کو بھی بجلی آف رہتی ہے ۔موجودہ زمانے میں کوئی یہ کیسے تصور کرسکتا ہے کہ لوگوں کو نہ پانی فراہم ہے اور نہ بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جارہی ہے ۔شہر خاص ہو یا شہر کے بالائی علاقے نل دن بھر خشک رہتے ہیں لوگوں کا کہنا ہے کہ کبھی کبھار شام کوےا صبح کے وقت پانی بحال کیا جاتا ہے جبکہ زیادہ تر اوقات پانی بند رکھا جارہا ہے ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ بجلی کے بغیر کسی نہ کسی طریقے سے گذارہ کیا جاسکتا ہے لیکن پانی کا کوئی متبادل نہیں ،نتیجے کے طور پر ہر جانب ہاہا کار مچی ہوئی ہے ۔نوہٹہ کے شہریوں نے بتایا کہ اب مساجد میں وضو کرنے کے لئے پانی دستیاب نہیں رہتاہے ۔محکمہ اس کی کوئی معقول وجہ بتانے سے قاصر ہے ۔آج کل شادیوں کا سیزن چل رہا ہے لیکن پانی کی عدم دستیابی کی بنا پر شہر میں لوگوں کو ناقابل بیان حد تک پریشانیاں اٹھانا پڑ رہی ہیں۔جن کے ہاں شادیاں ہوتی ہیں وہ انتہائی پریشان ہیں ۔حکومت ایک جانب کہہ رہی ہے کہ ہر گھر نل سکیم کے تحت دور دراز علاقوں میں بھی پانی پہنچانے کے لئے ترجیحی اقدامات کئے جارہے ہیں لیکن ان اقدامات کا کیا فایدہ کیونکہ ساٹھ فیصد نل جل کے بغیر ہیں ۔آفتاب کو شہر کے مختلف علاقوں سے آے ہوئے وفود نے بتایا کہ ان کو دو دو دنوں تک پانی کی فراہم نہیں کیا جارہا ہے ۔اگر شہر کا ایک یا ایک سے زیادہ علاقے ہوتے تو ان ہی کالموں میں ان کے نام لکھے جاسکتے تھے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ پورے شہر میں پانی کی فراہمی میں زبردست خلل پڑا ہوا ہے اور لوگوں کے مطابق محکمہ ٹس سے مس نہیں ہورہا ہے چنانچہ اس کے خلاف لوگوں نے متعدد مرتبہ سڑکوں ،چوراہوں پر دھرنے دئے اور مظاہرے کئے جس سے کبھی کبھار لا اینڈ آرڈر کی صورتحال بھی پیدا ہو جاتی ہے لیکن پھر بھی متعلقہ حکام ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں۔یہی حال بجلی کا ہے ایک جانب حکومت کہہ رہی ہے کہ جن علاقوں میں نئے سمارٹ میٹر لگائے گئے ہیں انہیں چوبیس گھنٹے بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جاے گی لیکن چوبیس گھنٹوں کی بات ہی نہیں ہے عملی طور پر بارہ گھنٹے کی بجلی بھی فراہم نہیں کی جارہی ہے ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ غالباً ایل جی یا چیف سیکریٹری کو ماتحت افسر یا ملازمین بجلی اور پانی کی فراہمی کے بارے میں اصل صورتحال سے آگاہ نہیں کر رہے ہونگے جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ لوگوں کی پریشانیوں کا حکومت نوٹس نہیںلے رہی ہے ۔اس وقت لوگوں کا ہر طبقہ پریشان حال ہے ۔کوئی چارہ جوئی کرنے والا نہیں ۔اسلئے ایل جی اور چیف سیکریٹری سے لوگ اپیلوں پر اپیلیں کر رہے ہیں کہ وہ شہر میں رہنے والے لوگوں کی پریشانیوں اور مشکلات کو دور کرتے ہوے بجلی اور پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے فوری اقدامات کی ہدایات دیں۔










