جموںوکشمیر میں بائیو ولٹائن ککون پالنے سے کسانوں کی آمدنی میں خاطر خواہ اَضافہ ہوسکتا ہے۔ اتل ڈولو
سری نگر/29اگست2022ئ
ایڈیشنل چیف سیکرٹری ( اے سی ایس ) محکمہ زرعی پیداوار اَتل ڈولو نے آج کہا کہ اِنڈین سلک اِنڈسٹری میں بائیو ولٹائن سِلک کی سب سے زیادہ مانگ ہے۔پیداوار اور ضروریات میں ایک بہت بڑا خلاہے۔
اِن باتوں کا اِظہار آج ایڈیشنل چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے سول سیکرٹریٹ میں سری کلچر ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے کام کاج کا جائزہ لینے کے لئے ایک میٹنگ کی صدارت کرنے کے دوران کیا۔
میٹنگ میں سیکرٹری محکمہ زرعی پیداوار شبنم کاملی ، ڈائریکٹر سری کلچر جے اینڈ کے منظور احمد قادری اور محکمہ دیگر اَفسران نے شرکت کی۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے کہا کہ جموںوکشمیر میں بائیو ولٹائن سِلک کی پیداوار کے لئے بہت زیادہ امکانات موجود ہیں جوکہ ساز گار موسمی حالات کی وجہ سے ہیں اور آنے والے برسوں میں پاور لوم سیکٹر کی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار اَدا کر سکتے ہیں۔
ڈائریکٹر سری کلچر نے میٹنگ کو محکمہ کے مختلف سرگرمیوں یعنی فوکس ائیریاز اور آنے والے برسوں میں بائیو ولٹائن ککون کی پیداوار اور پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لئے عملانے والی سکیموں او رپروگراموں کے بارے میں جانکاری دی۔
اے سی ایس نے ہر ذیلی شعبے کے لئے ایکشن پلان کے ساتھ کثیر الجہتی حکمت عملی اَپنانے کی ہدایت دی جس میں ممکنہ علاقوں کی نشاندہی اور ایس ایچ جی اور ایس آر ایل ایم سوسائٹیوں کے ذریعے اِضافی آمدنی کے ذرائع فراہم کرنے کے لئے کلسٹر اپروچ کے اِستعمال پر توجہ دی جائے۔اِس کے ساتھ ساتھ ککون کاشت کاروں کے لئے اِی ۔ مارکیٹنگ پلیٹ فارم کی شکل میں تکنیکی مداخلتوں کے اِستعمال اور او ای او پی کے تحت مزید ریلنگ یونٹوں کے قیام کو ترجیحی بنیادوں پر لینے کی ضرورت ہے۔
اتل ڈولو نے محکمہ صنعت کے ذریعے جے کے آئی ( سِلک فلیچرز) کی سِلک فیکٹریوں کی مکمل بحالی کی تجویز بھی پیش کی تاکہ ریشم کی مصنوعات کو فروغ دیا جاسکے بالخصوص ساڑیاں ، سٹول جو ملک بھر میں خواتین کی سب سے زیادہ مانگ والی اشیاءہیں۔













