ناٹو کی پابندیوں کے بعد روسی صدر کا نیوکلیئر فورسز کو تیار رہنے کا حکم
ماسکو/ کیف: /ایجنسیز/یوکرین اور روس کے تنازعے میں شدت پیدا ہونے کے بعد ناٹو سے وابستہ ممالک کی جوابی کاروائیوں کیلئے دھمکیوں کے نتیجے میں پوری دنیا میں تیسری جنگ عظیم کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ روس کے صدر ولادمیر پیوٹن نے ملک کی نیوکلیئر مزاحمتی فورسز کو ہائی الرٹ پر رہنے کا حکم دیا ہے جبکہ عالمی برادری نے اس عمل کو غیرذمہ دار قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ کیف اور خار کیف میں کئی گھنٹوں کے سکون کے بعد پھر سے دھماکے سنے گئے۔ روسی صدر نے نے ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں کہا کہ میں نے وزیر دفاع اور روس کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف کو حکم دیا ہے کہ وہ روس کی نیوکلیئر مزاحمتی فورسز کو تیار رہنے کا حکم دیں۔ روس کے صدر نے یہ اعلان ایک ایسے موقع پر کیا ہے کہ جب دنیا بھر کی طاقتوں کی جانب سے ان پر پابندیاں لگائے جانے کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں روس کی معیشت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

پیوٹن نے کہا کہ انہوں نے جوہری فورسز کو ہائی الرٹ پر رہنے کا حکم مغربی طاقتوں کے رویے کو دیکھ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ فیصلہ روس پر عائد کی جانے والی پابندیوں اور نیٹو رہنماوں کے جارحانہ بیانات کے بعد لیا ہے۔ پیوٹن کے اس اعلان کے بعد امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ روس کے صدر کے اس فیصلے سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ یوکرین میں روسی حملے کے بعد روسی فوج کی کارروائیاں جاری ہیں، کیف اور خار کیف میں کئی گھنٹوں کے سکون کے بعد پھر سے دھماکے سنے گئے ہیں۔ برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ یوکرینی فضائیہ روسی فوج کے قافلوں پر ڈرون حملے کر رہی ہے۔ دریں اثنا یوروپی یونین کاکہنا ہے کہ یوکرین جنگ جاری رہی تو 70 لاکھ سے زائد افراد کے بے گھر ہونے کا امکان ہے۔ یوروپی یونین کمشنر برائے کرائسس مینجمنٹ کا کہنا ہے کہ براعظم یوروپ میں سالوں بعد انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔ خبر ایجنسی کاکہنا ہے کہ جی سیون رہنماوں نے روس پر مزید پابندیاں لگانے کی دھمکی دی ہے۔ جی سیون نے کہا ہے کہ روس نے یوکرین پر حملے جاری رکھے تو مزید پابندیاں لگائیں گے اور روس کی یوکرین پر عسکری کامیابی کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔














