حکمرانوں کی نوجوان کُش پالیسیوں سے یہاں کا نوجوان نااُمید اور بے بس دکھائی دے رہا ہے کی بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے کہا کہ ایسی صورتحال میں منشیات اور دیگر برے کاموں کی طرف راغب ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی غلط شعاری سے یہاں کے پڑھے لکھے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگار بیٹھے ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق نیشنل کانفرنس سٹوڈنٹس یونین جموں کے عہدیداران اور کارکنان آج یونین صدر ن مہیش بخشی کی قیادت میں صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ کیساتھ اُن کی رہائش گاہ پر ملاقی ہوئے۔ اس موقعے پر صدرِ صوبہ جموں ایڈوکیٹ رتن لعل گپتا، صدرِ صوبہ کشمیر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈر خالد نجید سہروردی اور صدرِ صوبہ جموں یوتھ ونگ اعجاز جان بھی موجود تھے۔ سٹوڈنٹس ونگ سے وابستہ عہدیداران نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو نوجوانوں کو درپیش مسائل و مشکلات سے آگاہ کرنے کے علاوہ مقامی نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقعے معدوم کئے جانے پر زبردست مایوسی کا اظہار کیا۔ طلباءنے کہاکہ ہمیں اپنا مستقبل مخدوش نظر آرہاہے کیونکہ جموں وکشمیر میں جس طرح باہری ریاستوں کے اُمیدوروں کیلئے نوکریاں حاصل کرنے کیلئے میدان کھلا چھوڑا جارہا ہے ، یہ ایک خطرناک رجحان ہے جس سے نوجوان پود نااُمیدی اور مایوسی کے بھنور میں ڈوبتی جارہی ہے۔ طلباءنے کہا کہ دیگر ریاستوں میں جہاں روزگار کے مواقع مقامی نوجوانوں کیلئے مخصوص رکھنے کا رجحان جاری ہے ، حتیٰ کہ کچھ ریاستوں میں نجی سیکٹر میں بھی مقامی نوجوانوں کیلئے مخصوص کوٹا رکھنے کے قوانین پاس کئے جارہے ہیں لیکن جموں وکشمیر کی نوکریاں باہری لوگوں کو دیکر یہاں کے نوجوانوں کے حقوق سلب کئے جارہے ہیں۔ پبلک سروس کمیشن کی طرف سے31اکتوبر 2019سے قبل کی 1500سے زائد اور باڈر بٹالین کےلئے لئے گئے امتحانات کو رد کرنے کو مقامی نوجوانوں کے حقوق پر شب خون مارنے کی تازہ مثالیں ہیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہ سٹوڈنٹس ونگ سے وابستہ طلباءکو یقین دہانی کرائی کہ وہ یہ معاملہ پارلیمنٹ میں اُٹھانے کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم کیساتھ ملاقات کرکے اُن کی توجہ بھی اس سنگین مسئلے کی طرف مرکوز کرائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے پہلے بھی جموں وکشمیر کے نوجوانوں کی سلب کی جارہی نوکریوں کا مسئلہ بار بار اُٹھایا ہے اور ہم اس سمت میں اُس وقت تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں جب تک یہاں کی نوکریاں مقامی نوجوانوں کیلئے مخصوص رکھی جائیں گی۔ انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کی نوجوان کُش پالیسیوں سے یہاں کا نوجوان نااُمید اور بے بس دکھائی دے رہا ہے اور ایسی صورتحال میں منشیات اور دیگر برے کاموں کی طرف راغب ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی غلط شعاری سے یہاں کے پڑھے لکھے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگار بیٹھے ہیں اور عمر کی حد پار کررہے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی کی طلباءونگ سے وابستہ نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ والدین کی خدمت کرنے میں کوئی بھی دقیقہ فروگذاشت نہ کریں اور ہمیشہ بڑھوں کی عزت کریں۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کی انفرادیت، اجتماعیت، مذہبی ہم آہنگی اور خصوصی پوزیشن کی بحالی اور فرقہ پرست عناصر کی مذموم سازشوں کا توڑ کرنے میں نوجوانوں کا اہم رول ہے۔













