اہل خانہ نے طبی غفلت کا الزام لگایا
جنوبی کشمیر کے کولگام سے تعلق رکھنے والی ایک 35سالہ خاتون کی موت اس وقت ہوئی جب اسے مبینہ طور پر ہائی فلو آکسیجن پر رکھا گیا تھا۔ میڈیارپورٹ میں مہلوک کی بھائی طارق یوسف کے حوالے سے بتایا گیا کہ خاتون شولی جان دختر محمد یوسف کھانڈے نامی خاتون کا پیر کو ضلع اسپتال میں انتقال ہوگیا۔انہوں نے بتایا6فروری کو صبح 5بجے کے قریب کلگام کے ایک پرائیویٹ کلینک میں معمول کے چیک اپ کے لیے گئی تھی، کلینک کے ڈاکٹروں نے اسے کچھ دیر کے لیے آکسیجن سپورٹ کے لیے اسپتال جانے کا مشورہ دیا۔ کیونکہ اس کی آکسیجن لیول 80کے قریب تھی۔یوسف نے کہا، "میری بہن سب سے پہلے پرائیویٹ کلینک گئی جہاں ایک ڈاکٹر نے اسے بتایا کہ آپ ٹھیک ہیں اور آپ کا آکسیجن لیول تھوڑا کم ہے اور آپ ہسپتال چلیں۔”تاہم، اسے مسلسل کئی گھنٹوں تک ہائی فلو آکسیجن پر رکھا گیا جس کی وجہ سے اس کے پھیپھڑے خراب ہو گئے اور بعد میں اس کی موت ہو گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کی بہن نے ڈاکٹروں سے بار بار درخواست کی کہ وہ اسے ہائی فلو آکسیجن پر نہ رکھیں کیونکہ اسے اس کے ساتھ کچھ مسائل کا سامنا ہے اس کے باوجود اسے مسلسل ہائی فلو آکسیجن پر رکھا گیا اور مرتے دم تک اسے آکسیجن کی سہولت پر رکھا گیاسوپر کولگام کے محمد یوسف کھانڈے کی بیٹی شولی جان نامی خاتون کا پیر کو ضلع اسپتال میں انتقال ہوگیا۔دریں اثنائ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ ہسپتال کولگام ڈاکٹر مظفر زرگر نے بتایا کہ مریض مائیوٹونیا میں مبتلا ہے اور وہ اس معاملے کی انکوائری کر رہے ہیں اور متعلقہ ڈاکٹر کا بیان بھی ریکارڈ کیا جائے گا۔یوسف نے حکام سے مزید درخواست کی کہ معاملے کی جلد از جلد تحقیقات کی جائیں اور مبینہ طبی غفلت میں ملوث عملے کے ارکان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔













