امریکی ساخت رائفل ، دو اے کے 47رائفلیں اوردو پستول بھی بر آمد ، پانچ جنگجوﺅں کی ہلاکت بڑی کامیابی/ پولیس
وادی کے شمال و جنوب میں جنگجو مخالف آپریشنوں میں تیزی کے بیچ جنوبی ضلع پلوامہ کے نائرہ اور ضلع بڈگام کے چرار شریف علاقے میں اعلیٰ جیش کمانڈر اور پاکستان جنگجو سمیت پانچ عساکر جاں بحق ہو گئے ۔ آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے 12گھنٹوں کے دوران سیکورٹی فورسز کے ساتھ دوتصادم آرائیوں میں لشکر طیبہ اور جیش سے وابستہ 5 ملی ٹینٹوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نائرہ پلوامہ میں جیش کا انتہائی مطلوب کمانڈر زاہد وانی اور پاکستانی جنگجو کو مار گیا ۔ انہوں نے کہا کہ جیش کمانڈر زاہد وانی کی ہلاکت سیکورٹی فورسز کیلئے بہت بڑی کامیابی ہے کیونکہ وہ متعدد کیسوں میں انتہائی مطلوب تھا۔ادھر جھڑپ کے ساتھ ہی ضلع پلوامہ کے کئی علاقوں میںموبائیل انٹر نیٹ خدمات معطل رہی ۔ سی این آئی کو دفاعی ذرائع سے معلوم ہو اہے کہ نائرہ پلوامہ میں جیش کمانڈر اور اس کے ساتھی کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج کے 55آر آر، سی آر پی ایف اور جموں کشمیر پولیس نے سنیچروار کی شام دیر گئے علاقے میںتلاشی آپریشن عمل میںلایا ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ علاقے میں کافی دیر تک سیکورٹی فورسز نے تلاشی آپریشن عمل میںلایا اور جونہی تلاشی آپریشن کے دوران س جگہ کی جانب پیش قدمی کرنے کی کوشش کی جہاں جنگجوﺅں چھپے بیٹھے تھے تو وہاں موجود جنگجوﺅں نے فورسز پر فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی علاقے میں گولیوں کا مختصر تبادلہ ہوا ۔ذرائع کے مطابق علاقے میں مختصر جھڑپ کے بعد اندھیرا ہونے کی وجہ سے آپریشن موخر کر دیا گیا جبکہ پولیس نے محاصرے میں پھنسے جنگجوﺅںکو خود سپردگی کی بھی پیشکش کی تاہم انہوں نے وہ ٹھکرادی جس کے بعد علاقے میں رات دیر تک آپریشن جاری رہنے کے بیچ وقفے وقفے سے دونوں اطراف سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ رات بھر آپریشن جاری رہنے کے بیچ اتوار کی صبح روشنی کی پہلی کرن چھا جانے کے ساتھ ہی آپریشن کو وسیع کر دیا گیا اور جنگجوﺅںکے خلاف کارورائی تیز کر دی گئی اور جونہی علاقے میںگولیوں کا تبادلہ تھم گیا تو جھڑپ کے مقام سے چار جنگجوﺅںکی نعشیں بر آمد کر لی گئی جن میں تین کی شناخت زاہد منظور وانی عرف اوزیر ساکنہ کریم آباد پلوامہ ، کفیل بھاری عرف چھوٹو ساکنہ پاکستان، عنایت احمد ساکنہ نائرہ پلوامہ اور چوتھے کی شناخت وحید احمد ریشی ساکنہ کھدر مو پلوامہ کے بطور ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق چاروں کا تعلق عسکری تنظیم جیش محمد سے تھا جبکہ زاہد منظور کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جیش محمد کا اعلیٰ کمانڈر تھا جو کئی سالوں سے سرگرم تھا ۔انہوں نے بتایا کہ مہلوک جنگجوﺅں سے امریکی ساخت رائفل ، 02اے کے 47رائفلیں ، دو پستول اور دیگر اسلحہ بر آمد کر لیا گیا ہے ۔ پولیس نے جھڑپ میں چار جنگجوﺅں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جھڑپ میں مارا گیا زاہد منظور جیش کا کمانڈر تھا اور وہ پولیس کو کئی کیسوں میں انتہائی مطلوب تھا ۔ ادھر سنیچروار کی شام دیر گئے ہی وسطی ضلع بڈگام کے چرار شریف علاقے میں ایک مسلح تصادم آرائی ہوئی جس میں ایک مقامی جنگجو جاں بحق ہو گیا ۔ پولیس کے مطابق چرار شریف علاقے میں جنگجوﺅں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج ، سی آر پی ایف اور جموں کشمیر پولیس نے سنیچروار کی شام دیر گئے علاقے میںتلاشی آپریشن عمل میںلایا ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ علاقے میں کافی دیر تک سیکورٹی فورسز نے تلاشی آپریشن عمل میںلایا اور جونہی تلاشی آپریشن کے دوران س جگہ کی جانب پیش قدمی کرنے کی کوشش کی جہاں جنگجوﺅں چھپے بیٹھے تھے تو وہاں موجود جنگجوﺅں نے فورسز پر فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی علاقے میں گولیوں کا تبادلہ ہوا اور جونہی علاقے میں فائرنگ کا تبادلہ رک گیا تو جھڑپ کے مقام سے ایک جنگجو کی نعش بر آمد کر لی گئی جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ لشکر طیبہ سے وابستہ تھا اور اس کی شناخت بلال احمد خان ساکنہ چل براس خانصاب بڈگام کے بطور ہوئی ہے ۔













