حکام نے اتوار کو کہا ہے کہ سرینگر جموں شاہراہ پر صرف اُن گاڑیوں کو اپنی اپنی منزلوں کی طرف جانے کی جانے کی اجازت ہوگی جو شاہراہ پر دونوں اطراف درماندہ ہے ۔ سرینگر جموں شاہراہ اُس وقت ٹریفک کےلئے بند کردی گئی تھی جب شاہراہ پر بھاری بھرکم پتھر گرآئے تھے ۔ اس دوران حکام نے بتایا ہے کہ شاہراہ کو اگرچہ قابل آمدورفت بنایا گیا ہے تاہم موسم کی صورتحال بہتر رہنے اور سڑک قابل آمدورفت ہونے کی صورت میں 24جنوری کو صرف درماندہ گاڑیوں کو ہی چلنے دیا جائے گااور ابتدائی طور پر جموں سے سرینگر کی طرف جانے والی چھوٹی گاڑیوں کو ہی چلنے کی اجازت ہوگی ۔ حکام نے کہا ہے کہ TCU جموں ٹریفک کو جاری کرنے سے پہلے TCU رام بن سے رابطہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ نگروٹہ (جموں) سے LMVs/پرائیویٹ کاروں کا کٹ آف ٹائمنگ 0900 سے 1200 گھنٹے تک اور جاکھینی (ا±دھم پور) سے 1000 گھنٹے سے 1300 بجے تک ہوگا۔ بھاری گاڑیوں ،لوڈ کیریئرز کے بارے میں انہوں نے کہا مناسب موسم اور سڑک کے بہتر حالات کے ساتھ انہیں ٹریفک کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد جکھینی (ا±دھم پور) سے سری نگر کی طرف جانے کی اجازت دی جائے گی۔اس موقعے پر ٹریفک حکام نے سیکورٹی فورسز اور فوج کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جموں سرینگر ہائے وے پر ٹریفک کے دباﺅ کو مد نظر رکھتے ہوئے ایڈوائزری کے مخالف نہ چلیں اور وہ ہائی وے کی حالت کی تصدیق کے بعد جموں سے سری نگر کی طرف چل سکتے ہیں۔ اس سے قبل ہائی وے کو کئی مقامات پر مٹی کے تودے گرنے اور پتھرگرآنے کی وجہ سے بلاک کر دیا گیا تھا، خاص طور پر ضلع رامبن میں۔ ہفتہ کو ہی، حکام نے کہا تھا کہ محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کی گئی شدید بارش کی پیش گوئی کے پیش نظر اتوار کو ہائی وے پر ٹریفک معطل رہ سکتی ہے۔ دریں اثنائ ، مغل روڈ، جو شوپیاں کو پونچھ اور راجوری اضلاع سے ملاتی ہے، پیر کی گلی میں برف جمع ہونے کے پیش نظر گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے بند رہی۔ اس کے علاوہ، زوجی لا محور پر برف جمع ہونے کے پیش نظر سری نگر-سونامرگ-گمری سڑک گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے بند رہی۔ اور اگلے احکامات تک بند کر دیا گیا ہے۔ محکمہ ٹریفک کے اہلکار نے بتایا کہ برف کے جمع ہونے کے پیش نظر کشتواڑ-سنتھن سڑک بھی بند رہی۔













