سڑے ہوئے گوشت کا کاروبار ناجائز بھی اور قتل کے مترادف بھی ۔ عمر عبداللہ
فوڈ سیفٹی محکمے کو اچانک چھاپوں اور سخت نگرانی کی ہدایت
سرینگر/11اگست/وی او آئی//وادی میں سڑے ہوئے گوشت کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی ۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ پیسے کمانے کی لالچ میں ناقص اشیائے خوردنی کا کاروبار نہ صرف ناجائز ہے بلکہ یہ قتل کے مترادف ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ نے ناقص اور غیر معیاری گوشت سمیت دیگر مضر صحت اشیائے خوردونوش کی فروخت کے خلاف بھرپور اور مؤثر کارروائی کا حکم دیتے ہوئے فوڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ مارکیٹ میں اچانک معائنوں کا سلسلہ تیز کرے اور معیارِ صحت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے یہ احکامات پیر کو مارکیٹ ریگولیشن سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کے دوران دیے گئے۔ چیف منسٹر آفس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صارفین کی صحت اور سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور کھانے پینے کی اشیا کے معیار پر کسی صورت نرمی یا نظرانداز برداشت نہیں کیا جائے گا۔فوڈ سیفٹی محکمے کو خصوصی طور پر گوشت فروشوں پر کڑی نظر رکھنے اور تمام مصنوعات کے طے شدہ معیار اور صفائی کے تقاضوں پر پورا اترنے کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکم عدولی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی، بھاری جرمانے اور دکانیں بند کرنے جیسے اقدامات کیے جائیں گے۔وزیرِ اعلیٰ نے اس مہم کو مؤثر اور پائیدار بنانے کے لیے میونسپل اداروں، پولیس اور مارکیٹ ریگولیٹرز کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ ناقص یا غیر معیاری گوشت کی فروخت کے کسی بھی واقعے کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں۔واضح رہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع میں ناقص اور غیر صحت بخش گوشت کی فروخت کے بارے میں شکایات میں اضافہ ہوا ہے، جس پر شہریوں اور سماجی تنظیموں کی جانب سے فوڈ سیفٹی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ حکومت کے تازہ احکامات کا مقصد نہ صرف عوامی صحت کے معیار کو بہتر بنانا ہے بلکہ مقامی بازاروں میں صارفین کا اعتماد بحال کرنا بھی ہے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے وادی کشمیر میں سڑے ہوئے گوشت فروشوں کے خلاف محکمہ فوڈ سیفٹی کی جانب سے جاری کارروائی کے دوران اب تک چالیس ہزار سے زائد گوشت سے بنی اشیاء یا سڑے ہوئے گوشت کو ضبط کرکے ذائع کیا جاچکا ہے ۔














