دہشت گردی کی مالی معاونت کوروکنے کیلئے منشیات اسمگلنگ کوختم کرنے کاعزم
انسداد دہشت گردی کارروائیوںمیں تیزی لانے ،دراندازی کی روکتھام کیلئے مزید اقدامات اُٹھانے اورتال میل کو بڑھانے کافیصلہ
سری نگر/ مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کی ذیرصدارت حالیہ میٹنگوںمیں جموں وکشمیرکی سیکورٹی صورتحال کاجائزہ لینے اوراس دوران انسدادملی ٹنسی حکمت عملی پرسختی کیساتھ عمل کئے جانے کی ہدایات کے بعد بدھ کویہاں پولیس کنٹرول روم کشمیرمیں لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کی صدارت میں اعلیٰ سطحی زونل سیکورٹی جائزہ میٹنگ منعقدہوئی ،جس میں ملی ٹنسی مخالف کارروائیوں،دراندازی کی روکتھام،ملی ٹنسی فنڈنگ کو روکنے ،انسداد منشیات اسمگلنگ اوردیگرجڑے معاملات پرتبادلہ خیال کیاگیا۔معلوم ہواکہ ،کل یعنی جمعرات کو جموںمیں زونل سطح کی سیکورٹی جائزہ میٹنگ ہو گی ۔جے کے این ایس کومعلوم ہواکہ بدھ کویہاں سری نگرکے پولیس کنٹرول روم کشمیرمیں لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کی صدارت میں منعقدہ سیکورٹی جائزہ میٹنگ میں فوج، پولیس اور سی آر پی ایف اور اور مختلف سیکورٹی وسراغ رساں ایجنسیاں کے اعلیٰ افسران نے بھی شرکت کی ۔حکام کے مطابق جائزہ میٹنگ میں جو سیول وسیکورٹی حکام موجودتھے ،اُن میں چیف سکریٹری اتل ڈلو، ہوم سکریٹری چندراکر بھارتی، ڈائرکٹر جنرل آف پولیس لین پربھات، اے ڈی جی پی سی آئی ڈی نتیش کمار، اے ڈی جی پی آرمڈ آنند جین اور انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر ودھی کمار بردی ،فوج اورسی آرپی ایف کے سینئرافسران بھی شامل ہیں۔مرکزی نیم فوجی دستوں، انٹیلی جنس ایجنسیوں کے افسران، تمام رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرلز (DIGs)، جموں و کشمیر آرمڈ پولیس کےDIGs، تمام اضلاع کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور جموں و کشمیر آرمڈ پولیس یونٹس کے کمانڈنٹ نے بھی اس اہم جائزہ میٹنگ میںشرکت کی ۔ذرائع نے بتایا کہ میٹنگ میں کشمیر زون میں سیکورٹی کی صورتحال کیساتھ ساتھ ملی ٹنٹ سرگرمیوں اور دراندازی کی کوششوں ،سرحدپار سے منشایت کی اسمگلنگ کو روکنے کیلئے اقدامات کاجائزہ لیاگیا ۔حکام کے مطابق کلیعنی جمعرات کو جموں زون میں سیکورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ایک الگ میٹنگ منعقد کی جائے گی۔میٹنگوںکا یہ سلسلہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی نئی دہلی میں جموں و کشمیر کے حوالے سے بیک ٹو بیک سیکورٹی جائزہ میٹنگوں کی صدارت کے ایک ہفتہ بعد شروع ہوا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ بدھ کو سری نگرمیں منعقدہ میٹنگ اہم سیکورٹی امور بشمول انسداد دہشت گردی آپریشن، دراندازی کی کوششیں، اور کشمیر میں منشیات کے استعمال کے بڑھتے ہوئے چیلنجپر مرکوز رہی۔عہدیداروں نے کہا کہ بدھ کی میٹنگ مرکز ی وزیرداخلہ کی زیر صدارت منعقدہ میٹنگ میں لئے گئے اہم فیصلوں کی پیروی کرے گی اور زمینی سطح پر ان کے نفاذ کا جائزہ لے گی۔حکام کے مطابق، میٹنگ میں اہم سیکورٹی خدشات پر توجہ مرکوز کی گئی ،جن میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں، دراندازی کی کوششوں، اور کشمیر میں منشیات کے استعمال کے بڑھتے ہوئے چیلنج شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میٹنگ کا مقصد موجودہ سیکورٹی حکمت عملیوں کی تاثیر کا جائزہ لینا اور کشمیر میں امن کو برقرار رکھنے کے لیے مزید اقدامات کا جائزہ لینا ہے۔سیکورٹی حکام نے کہاکہ میٹنگ میں دہشت گردی اور منشیات اسمگلنگ کا جائزہ لیاگیا کیونکہ منشیات اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی رقم کو دہشت گردی کی فنڈنگ کیلئے استعمال کیاجاتاہے ۔اس بات کا بھی جائزہ لیاگیاکہ منشیات کی سرحدپار سے اسمگلنگ ،منشیات کے کاروبار،منشیات کے نیٹ ورک کو توڑنے کیلئے کیا کچھ فوری نوعیت کے مزید اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے ۔حکام نے تصدیق کی کہ منشیات کے استعمال اور اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئے مسئلے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کیونکہ منشیات کی اسمگلنگ، جو اکثر دہشت گردی کی مالی معاونت سے منسلک ہوتی ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک اہم تشویش بنی ہوئی ہے۔انہوںنے کہاکہ دہشت گردی اور منشیات کی سمگلنگ کے درمیان گٹھ جوڑ ایک حقیقت ہے۔ سیکورٹی گرڈ ان نیٹ ورکس کو ختم کرنے کےلئے فعال طور پر کام کر رہا ہے۔ منشیات کے بہاو ¿ کو روکنے اور ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے اقدامات بات چیت کا حصہ ہوں گے۔حکام کے مطابق میٹنگ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کو تیز کرنے، انٹیلی جنس شیئرنگ کے طریقہ کار کو بڑھانے اور جموں و کشمیر میں منشیات کے استعمال سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی کو نافذ کرنے کی ہدایات کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔













