نئی دہلیْ وزیر اعظم نریندر مودی نے صفائی مہم کو ایک مسلسل مہم بتاتے ہوئے آج کہا کہ اس کی وجہ سے ملک کے باشندوں، خاص طور پر سرکاری دفاتر میں لوگوں کی ذہنیت میں تبدیلی آئی ہے اور اب وہ نہ صرف خود ذمہ داری کے احساس کے ساتھ صاف صفائی کر رہے ہیں بلکہ ری سائیکلنگ سے پیسہ کما رہے ہیں۔مسٹرمودی نے آل انڈیا ریڈیو پر اپنے ماہانہ پروگرام ‘من کی بات’ میں سرکاری دفاتر میں تبدیلیوں پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ”آپ نے دیکھا ہوگا کہ جیسے ہی کوئی کہتا ہے ’سرکاری دفتر‘ تو آپ کے ذہن میں فائلوں کے ڈھیر کی تصویر سامنے آتی ہے ۔ آپ نے فلموں میں بھی ایسا ہی کچھ دیکھا ہوگا۔ سرکاری دفاتر میں ان فائلوں کے ڈھیر پر کتنے ہی لطیفے بنتے رہے ہیں، کتنی ہی کہانیاں لکھی گئی ہیں۔ برسہا برس تک یہ فائلیں دفتر میں پڑے پڑے دھول سے بھر جاتی تھیں، وہاں گندگی ہونے لگتی تھی- ایسی دہائیوں پرانی فائلوں اور کباڑ کو ہٹانے کے لیے خصوصی صفائی مہم چلائی گئی۔ آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ اس مہم کے سرکاری محکموں میں حیرت انگیز نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ صفائی کی وجہ سے دفاتر میں کافی جگہ خالی ہو گئی ہے ۔ اس سے دفتر میں کام کرنے والوں میں خود ذمہ داری کا احساس بھی پیدا ہوا ہے ۔ انہوں نے اپنے کام کی جگہ کو صاف ستھرا رکھنے کی سنجیدگی بھی پیدا کی ہے ۔”وزیر اعظم نے کہا، ”آپ نے اکثر بزرگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہوگا کہ جہاں صفائی ہوتی ہے ، وہاں لکشمی کا واس ہوتا ہے ۔ ہمارے یہاں ‘کچرے سے کنچن’ کا خیال بہت پرانا ہے ۔ ملک کے کئی حصوں میں ‘نوجوان’ فضول سمجھی جانے والی چیزوں کو استعمال کرتے ہوئے کچرے سے کنچن بنا رہے ہیں۔ طرح طرح کی اختراعات کررہے ہیں۔ اس سے وہ پیسہ کما رہے ہیں اور روزگار کے ذرائع تیار کر رہے ہیں۔ یہ نوجوان اپنی کوششوں سے پائیدار طرز زندگی کو بھی فروغ دے رہے ہیں۔ ممبئی کی دو بیٹیوں کی یہ کوشش واقعی بہت متاثر کن ہے ۔ اکشرا اور پراکرتی نام کی یہ دونوں بیٹیاں کترن سے فیشن آئٹمز بنا رہی ہیں۔ آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ کپڑوں کی کٹائی اور سلائی کے دوران جو تراشیں نکلتی ہیں وہ بیکار سمجھ کر پھینک دی جاتی ہیں۔ اکشرا اور پراکرتی کی ٹیم انہیں کپڑوں کے کچرے کو فیشن کی مصنوعات میں تبدیل کرتی ہے ۔ "کترن سے بنی ٹوپیاں اور بیگ ہاتھوں ہاتھ فروخت ہورہے ہیں۔













