نئی دہلیْ ایک ایسی خاتون جو جسم کے نچلے حصہ پر فالج ہونے کے باوجود مسلسل مشکلات کا بڑی شجاعت اور دلیری کے ساتھ مقابلہ کرتی رہی اور اپنی جسمانی کمزوری کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیا، اور بڑی ہمت کے ساتھ وہ مقام حاصل کیا جس کی ہر عورت خواہش رکھتی ہے ۔ دیپا ملک ہندستان کی ایک پیرا ایتھلیٹ ہیں جنہوں نے پیرالمپکس میں ملک کو پہلا تمغہ دلایا ۔دیپا ملک شاٹ پٹ اور جیولن تھرو کے ساتھ ساتھ تیراکی اور موٹر ریسلنگ میں بھی مہارت رکھتی ہیں۔ دیپا نے 2016 کے پیرالمپکس میں شاٹ پٹ میں چاندی کا تمغہ جیت کر تاریخ رقم کی۔ 30 سال کی عمر میں ٹیومر کی تین سرجریوں اور جسم کے نچلے حصے میں بے حسی کے باوجود انہوں نے نہ صرف شاٹ پٹ اور فلیم تھرو کے قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں تمغے جیتے بلکہ سوئمنگ اور موٹر ریسلنگ کے کئی مقابلوں میں بھی حصہ لیا۔ انہوں نے ہندوستان کے قومی مقابلوں میں 33 طلائی اور 4 چاندی کے تمغے جیتے ہیں۔ وہ ہندوستان کی پہلی خاتون ہیں جنہیں ہمالیائی کار ریلی میں مدعو کیا گیا ۔ سال 2008 اور 2009 میں، انہوں نے یمنا ندی میں دو بار تیراکی اور خصوصی موٹر سائیکل سواری میں حصہ لے کر لمکا بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام درج کروایا۔ یہی نہیں، 2007 میں انہوں نے تائیوان اور 2008 میں برلن میں جیولین تھرو اور تیراکی میں حصہ لیا اور چاندی اور کانسہ کے تمغے جیتے تھے ۔تیراکی، جیولن، شاٹ پٹ اور ڈسکس مقابلوں میں 23 بین الاقوامی تمغوں اور 68 قومی اور ریاستی سطح کے تمغوں کے عوض، بین الاقوامی پیرا لمپک کمیٹی نے دنیا کی 10 سب سے متاثر کن خواتین پیرا ایتھلیٹس میں سے ایک کے طور پر دیپا ملک کو نامزد کیا ہے ۔ انہیں گریٹ ایشیا ویمن اچیورز ایوارڈز 2017 میں ایشیا کی 10 سرفہرست خواتین رہنما¶ں میں سے ایک کے طور پر درجہ دیا گیا ہے ۔ دیپا ملک نے ایشین گیمز ایتھلیٹکس میں تمغہ جیتنے والی پہلی ہندوستانی خاتون پیرا ایتھلیٹ بن کر تاریخ رقم کی ہے ۔ وہ کسی بھی کھیل میں ہندوستان کی پہلی خاتون پیرا لمپک میڈلسٹ بھی ہیں۔ سال بھر میں جیولن تھرو میں ایشیائی ریکارڈ اپنے نام کیا ہے ۔ وہ کھلے دریا میں تیراکی کا عالمی ریکارڈ بھی رکھتی ہیں۔جمنا ندی میں وہ تقریباًایک کلومیٹر تیراکی کرچکی ہیں۔وہ ہندوستان میں خواتین کے لیے معذوری کے کھیلوں کو آگے بڑھانے میں ان کے تعاون کے لیے بین الاقوامی پیرا لمپک کمیٹی سے خواتین کے عالمی دن کی شناخت حاصل کرنے والی پہلی ہندوستانی ہیں۔دیپا ہریانہ کے سونی پت ضلع میں ایک ہندو جاٹ خاندان میں 30 ستمبر 1970پیدا ہوئیں۔ دیپا کمر سے نچلے حصہ تک مفلوج ہیں۔ وہ ایک فوجی افسر کی بیوی اور دو بچوں کی ماں ہیں۔ 17 سال قبل ریڑھ کی ہڈی میں رسولی کی وجہ سے ان کا چلنا پھرنا محال ہوگیا تھا۔ دیپا کے 31 آپریشن ہوئے جس میں ان کی کمر اور ٹانگوں کے درمیان 183 ٹانکے لگائے گئے ۔ وہ جسمانی طور پر معذور ہو گئی، لیکن ذہنی طور پر نہیں۔ دیپا نے خود معذوری کے حوالے سے جسمانی اور ذہنی جنگ لڑی۔ ان کے شوہر کارگل میں جنگ لڑ رہے تھے ، ان کی دونوں بیٹیاں بھی پڑھائی کے لیے گھر سے دور تھیں۔ دیپا کی بڑی بیٹی دیویکا بھی پیرا ایتھلیٹ ہیں۔ ماں بیٹی کئی مقابلوں میں ایک ساتھ کھیلتی ہیں۔ بیٹی کے نام بھی کئی ریکارڈ ہیں۔دو بچوں کی ماں دیپا ملک کو بائیک چلانے کا شوق تھا













