کیپٹن سمیت4فوجی اور SOGاہلکار جاں بحق
اضافی سیکورٹی فورسزبشمول فوج کے خصوصی دستے طلب،فوجی ہیلی کاپٹروں کا گشت ،حملہ آوروں کی بڑے پیمانے پرتلاش
سری نگر :۶۱،جولائی : جے کے این ایس : جموں و کشمیر کے پہاڑی ضلع وڈہ میں جدید اور بھاری ہتھیاروں سے لیس دہشت گردوں کےساتھ پیرکو دیر رات ایک مسلح تصادم میں ایک افسر سمیت 4فوجی اہلکار زخمی ہونے کے بعد ہلاک ہو گئے جبکہ گولیاں لگنے سے زخمی ہوا جموں وکشمیرپولیس کی اسپیشل آپریشن گروپ کاایک اہلکاربھی زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑبیٹھا اوریوں اس خونین تصادم میں ہلاکتوں کی تعداد 5 ہو گئی۔حکام نے منگل کو بتایا کہ دہشت گردوں کا سراغ لگانے اور اُنہیں بے اثر کرنے کےلئے کمک بھیجی گئی۔ گزشتہ تین ہفتوں میں ڈوڈہ ضلع کے جنگلات میں سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان یہ تیسرا بڑا انکاو ¿نٹر تھا۔تازہ ترین واقعہ کٹھوعہ ضلع کے دور دراز مچیڈی جنگلاتی پٹی میں فوج کے گشت پر دہشت گردوں کے حملے کے ایک ہفتہ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں5 فوجیوں کی جانیں گئیں اور کئی زخمی ہو گئے۔جے کے این ایس کوملی تفصیلات کے مطابق کچھ دہشت گردوں کی موجودگی اور نقل وحمل سے متعلق اطلاعات ملنے پر فوج کی راشٹریہ رائفلز اور جموں و کشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ کے دستوں نے پیر کی شام دیر گئے ڈوڈہ شہر سے تقریباً 55 کلومیٹر دُور دیسا جنگلاتی پٹی میں دھاری گوٹے اوراربگی میں ایک مشترکہ محاصرے اور تلاشی کی کارروائی شروع کی،یہاں موجود دہشت گردوںنے سیکورٹی فورسزپر فائرنگ شروع کردی ۔ انہوں نے کہا کہ فائرنگ کے ایک مختصر تبادلے کے بعد، دہشت گردوں نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن ایک افسر کی قیادت میں دستوں نے ان کا پیچھا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیر کی رات 9 بجے کے قریب ایک اور تصادم کا آغاز ہوا۔تصادم میں5فوجی شدید زخمی ہوئے۔ اہلکاروں نے بتایا کہ ان میں سے4، بشمولایک فوجی افسر، بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔خونین تصادم میں جاں بحق ہونے والے اہلکاروں میں کیپٹن برجیش تھاپا، نائیک ڈی راجیش، سپاہی بیجندر اور سپاہی اجے شامل ہیں۔فوج کی16ویں کور، جسے وائٹ نائٹ کور کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے سماجی رابطہ گاہ ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہ مخصوص انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر، ڈوڈہ کے شمال میں عمومی علاقے میں ہندوستانی فوج اورجموں وکشمیرپولیس کا مشترکہ آپریشن جاری تھا۔پیرکو رات تقریباً 9 بجے دہشت گردوں سے رابطہ قائم ہوا جس میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔انہوں نے کہاکہ ابتدائی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے بہادروں کو چوٹیں لگی ہےں۔ اضافی نفری کو علاقے میں منتقل کر دیا گیا،اور انسداددہشت گردی آپریشن کو جاری رکھاگیا ۔حکام نے بتایا کہ فوج اور پولیس نے پیر کی رات ہی کمک کو متحرک کیا اور منگل کی صبح مزید فوجیوں کے ساتھ علاقے کی تازہ تلاشی شروع کی۔انہوں نے کہا کہ منگل کو ان دہشت گردوں کےساتھ کوئی تازہ رابطہ نہیں ہوا جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ سرحد پار سے دراندازی کر رہے ہیں اور پچھلے دو مہینوں سے جنگل کے علاقے میں چھپے ہوئے ہیں۔اس دوران میڈیا رپورٹس میں بتایاگیاکہ سیکورٹی فورسزبشمول فوج کے خصوصی دستوںکو طلب کرکے ضلع ڈوڈہ کے اوپری علاقوں بشمول گھنے جنگلوںمیں تلاشی آپریشن شروع کردیاہے اور فوجی ہیلی کاپٹر اس پورے علاقے میں گشت کررہے ہیں اور ان میں نصب کیمروں کے ذریعے دہشت گردوں کی موجودگی ،نقل وحمل اور ممکنہ پناہ گاہوں کا سراغ لگایاجارہاہے ۔سرچ آپریشن تیز کر دیا گیا ہے سکیورٹی فورسز نے خصوصی دستے تعینات کر دیے ہیں، سرچ آپریشن ہائی ٹیک اسپیکٹرم ڈرونز کے ذریعے کیا جا رہا ہے جو ہائی ڈیفینیشن کیمروں سے لیس ہیں جو کئی کلومیٹر دور تک کی ویڈیوز کھینچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ فوج کے ہیلی کاپٹروں کی خدمات لی جارہی ہیں اور جموں خطہ کے ڈوڈہ ضلع میں فوج پر مہلک حملے کے ذمہ داروں کی تلاش کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے۔














