کرپٹ اور بدعنوان سیاست دانوں کی نکیل کس لی جائے گی۔ وزیر اعظم
سرینگر//وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ کانگریس اور دیگر اس کی ہم خیال جماعتوں نے ملک کوسخت نقصان پہنچا یا ہے تاہم اب انہیں آگے بڑھنے نہیں دیں گے ۔وزیر اعظم نے بتایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی مرکزمیںتیسری بار سرکار بنائے گی اور رشوت خور اور بد عنوان سیاست دانوں کی نکیل کس لی جائے گی ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت راشٹرا سمیتی (BRS) اور کانگریس کو ایک دوسرے کی کاربن کاپی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راو ¿ سوچ اور نقطہ نظر میں ‘کانگریسی’ ہیں۔انتخابی مہم کے آخری دن یہاں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ میں بی آر ایس کی ‘غلط حکمرانی’ کا واحد متبادل بی جے پی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کانگریس کے ‘سلطان شاہی’ اور بی آر ایس کے ‘نظام شاہی’ سے لڑ رہی ہے۔لوگوں سے دونوں پارٹیوں کو مسترد کرنے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "کانگریس کیلئے ہر ووٹ بی آر ایس کو جائے گا اور خاندانی راج، بدعنوانی اور پولزرائزیشن کو تقویت ملے گا۔ اس اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہ بی جے پی اگلے سال مرکز میں تیسری بار برسراقتدار آئے گی اور بد عنوان اور کرپٹ سیاست دانوں کی نکیل کس لی جائے گی۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہم ملک کےلئے کام کرتے ہیں لیکن دیگر سیاسی جماعتیں اپنے بچوں اور اپنے خاندان کےلئے کام کرتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر تلنگانہ میں بی جے پی کو ووٹ دے کر اقتدار لایا جاتا ہے تو ڈبل انجن والی حکومت ریاست کی ترقی کو تیز کرسکتی ہے۔وزیراعظم مودی نے الزام لگایا کہ کانگریس اور بی آر ایس دونوں سماجی انصاف کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے کبھی بھی ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی لیڈروں کو آگے بڑھنے نہیں دیا جبکہ کے سی آر نے وعدہ کیا تھا کہ ایک دلت کو وزیراعلی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ”کے سی آر اپنی کار کا اسٹیئرنگ کسی اور پارٹی کو سونپ کر اپنے فارم ہاو ¿س چلے گئے ہیں۔ وزیراعظم مودی نے الزام لگایا کہ کے سی آر کو لوگوں کے بچوں کے مستقبل کی فکر نہیں ہے بلکہ انہیں اپنے بچوں اور کنبہ کے مستقبل کی فکر ہے۔ انہوں نے تلگو میں پوچھا: ”کیا آپ کو ایسا وزیر اعلیٰ چاہئے جو لوگوں سے نہ ملے اور جو سکریٹریٹ نہ جائے؟ کیا تلنگانہ کو فارم ہاو ¿س سی ایم کی ضرورت ہے؟وزیراعظم مودی نے الزام لگایا کہ بی آر ایس اب ٹیکنالوجی میں بھی پولرائزیشن کی سیاست لے کر آگئی ہے۔ انہوں نے اقلیتی نوجوانوں کے لئے آئی ٹی پارک تیار کرنے کے کے سی آر کے وعدے کا تذکرہ کرتے ہوئے پوچھا کہ ”کیا اب مذہب کی بنیاد پر آئی ٹی پارکس ہوں گے؟ کیا یہ ہندوستانی آئین کے لئے آپ کا احترام ہے؟














