مریضوں اور تیمار داروں کو رات کے وقت ایس ایم ایچ ہسپتال پہنچنا پڑتا ہے
سرینگر/18نومبر/سپر سپیشلٹی ہسپتال سرینگر میں تشخیصی مرکز نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں اور تیمار داروں کو رات کے وقت ایس ایم ایچ ایس ہسپتال جانا پڑتا ہے ۔ کئی تیمار داروں پر راستے میں کتوں نے حملہ کرکے زخمی کردیا ہے ۔ہسپتال میں الگ سے ٹسٹنگ لیبارٹری نہ ہونے پر حیرت کااظہار کرتے ہوئے تیمار داروں اور مریضوں نے کہا ہے کہ اتنے بڑے ہسپتال میں اس قدر سہولیات دستیاب تو ہیں لیکن ٹسٹنگ لیب نہ ہونے کی وجہ سے شام کے بعد مریضوں کو یا رات کے دوران کسی ایمرجنسی ٹسٹ کےلئے قریب آدھا کلو میٹر پیدل چل کر ایس ایم ایچ ایس کے کیجولٹی شعبے میں جانا پڑتا ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق سپر سپیشلٹی ہسپتال سرینگر میں مریضوں اور تیمار داروں کو ٹسٹ کےلئے ایس ایم ایچ ایس کیجولٹی بلاک میں جانا پڑتا ہے اور رپورٹ حاصل کرنے بھی اسی بلاک میں آنا جانا ہوتا ہے ۔ہسپتال میں داخل مریضوں کے تیمار دار کبھی کبھی رات کے وقت بھی کیجولٹی بلاک جانے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور کئی بار تیمار داروں پر کتنوں نے حملہ کرکے زخمی کردیا ہے ۔ تیمار داروں نے کہاہے کہ اتنے بڑے ہسپتال میں ٹسٹنگ کی سہولیت نہ ہونے کی وجہ سے یہاں داخل مریضوں کو شدید پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑتا ہے ۔ انہوںنے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ سپر سپیشلٹی ہسپتال میں ہی ٹسٹنگ کی سہولیات مئیسر رکھی جانی چاہئے ۔ تیمار داروںاور مریضوں نے کہا ہے کہ سپر سپیشلٹی ہسپتال جو کہ جی ایم سی سرینگر کے زیر نگرانی چلتا ہے میں مریضوں کےلئے علاج و معالجہ کی ہر طرح کی سہولیت دستیاب تو ہے لیکن ٹسٹنگ لیب موجود نہیں ہے خاص کر ایمرجنسی مریضوں کو جو کہ رات کے وقت ہسپتال پہنچائے جاتے ہیں یا جنہیں شام کے بعد ٹسٹ کرانے پڑتے ہیں ان ٹسٹوں کی جانچ ایس ایم ایچ ایس کے شعبہ ایمرجنسی میں جانا پڑتا ہے یا کئی ٹسٹوں کو بلاک ایف میں جانچا جاتا ہے اس طرح سے تیمار داروں کو قریب آدھا کلو میٹر سفر پیدل طے کرنا پڑتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ خاص کر جب رات کا وقت ہوتا ہے تو سڑک پر پیدل چلنا دشوار بن جاتا ہے کیوں کہ آوارہ کتوں نے سڑک پر ڈھیرہ جمایا ہوا ہوتا ہے اور اس وجہ سے اب تک کئی لوگوں کو کتوں کے حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے اور کئی ایک زخمی بھی ہوئے ہیں جن کا علاج بھی ایس ایم ایچ ایس میں ہی کیا گیا ہے ۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی













