پونچھ اور راجوری کے جنگلات میں ملی ٹینٹوں اور فورسز کے مابین گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔ دفاعی ذرائع نے بتایا کہ ابتک 2جونیئر کمیشنڈ آفیسر سمیت 7اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ جنگل میں کئی مقامات پر فورسز اور ملی ٹینٹوں کے مابین شدید تصادم جاری ہے جس وجہ سے اس علاقے کو اب پوری طرح فوجی چھاونی میں تبدیل کیا گیا ہے۔ دفاعی ذرائع نے بتایا کہ پونچھ جموں شاہراہ پر ٹریفک کو معطل رکھنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پونچھ اور راجوری کے جنگلات میں ملی ٹینٹوں اور فورسز کے بیچ گھمسان کی لڑائی پانچویں روز بھی داخل ہوئی ہے اور ابتک کسی بھی ملی ٹینٹ کی لاش جنگل سے برآمد نہیں ہو سکی ہے۔ جمعرات کی شام کو مینڈھر پونچھ کے جنگلی علاقے میں شدید تصادم ہوا جس دوران جونیئر کمیشنڈ آفیسر سمیت دو اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ تین اہلکار شدید طورپر زخمی بھی ہوئے ہیں۔ دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ پونچھ سے لے کر راجوری تک کے جنگلی علاقوں میں کئی ملی ٹینٹ گروپ ہو سکتے ہیں اور اب فوج نے بھی اضافی اہلکاروں کو جنگل کی اور روانہ کیا ہے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق جدید ہتھیاروں سے لیس ملی ٹینٹ گروپوں میں شامل جنگجوﺅں کو مار گرانے کی خاطر جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا جارہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ راجوری اور پونچھ کے جنگلی علاقوں میں تصادم آرائیوں کے بعد جمعرات کی شام کو مینڈھر پونچھ میں انکاونٹر شروع ہوا جس دوران ملی ٹینٹوں نے فوج پر گھات لگا کر حملہ کیا جس وجہ سے دو اہلکاروں کی موقع پر ہی موت واقع ہوئی جبکہ افواہیں یہ بھی گشت کر رہی ہیں کہ جنگل میں ایک فوجی لاپتہ ہو گیا ہے لیکن دفاعی ذرائع نے اسکی تصدیق نہیں کی ہے۔ جنگل میں کیا کچھ ہو رہا ہے اس بارے میں آفیسران بھی کچھ کہنے سے قاصر نظر آرہے ہیں لیکن جس انداز سے جنگل میں فائرنگ ہو رہی ہے اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ جنگلوں میں ملی ٹینٹوں کی تعداد زیادہ ہے جس وجہ سے فوج کو بھی آپریشن انجام تک پہنچانے میں مشکلیں پیش آرہی ہیں۔ واضح رہے کہ1 1اکتوبر کوڈھیرا کی گلی پونچھ میں مغل روڑ کے کنارے چمراڑ کے گھنے جنگل میں تلاشی آپریشن کے دوران48آر آر کی ایک تلاشی پارٹی پر جنگجوﺅں کے ایک گروپ نے گھات لگا کر حملہ کیا جس میںایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر دیگر 4اہلکاروں سمیت ہلاک ہوا جبکہ ایک اہلکار شدید طور پر زخمی ہوا۔اس واقعہ کے بعد اس پورے جنگلاتی علاقے اور پہاڑی سلسلے کو گھیرے میں لیکر وسیع پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کیا گیا جو پچھلے پانچ روز سے جاری ہے۔دوسرے روز یعنی 12اکتوبر کو بھی جنگل میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا لیکن تیسرے دن یعنی بدھ کو طرفین میں کوئی آمنا سامنا نہیں ہوا۔پولیس کے مطابق جمعرات کو ڈھیرا کی گلی سے 3گھنٹے کی مسافت پر واقع جموں پونچھ شاہراہ پر مینڈھر کے بھٹہ دھوڑیاں جنگل میں ایک بار پھرتازہ تصادم ہوا جس میں ایک اور جونیئر کمیشنڈ آفیسر اور ایک اہلکار ہلاک جبکہ ایک اہلکار شدید زخمی ہوا۔اس واقعہ کے بعد جموں پونچھ شاہراہ پر ٹریفک کی آمد و رفت معطل کردی گئی ہے۔یہ علاقہ مینڈھر کے بھمبر گلی کے قریب پڑتا ہے اور رومیو فورس کی کمانڈ کے تحت جنگجو مخالف آپریشن جاری ہے۔ دفاعی ذرائع نے بتایا کہ جمعرات کی صبح سیکورٹی فورسز کو ایک مخصوص اطلاع موصول ہوئی کہ جموں راجوری پونچھ قومی شاہراہ سے متصل بھٹہ دھوریان گاﺅں کے گھنے جنگلاتی علاقے میں کچھ مشکوک حرکات دیکھی گئی ہیں۔گاﺅں بھاٹا دھوریاں دہرہ کی گلی سے تقریبا پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے لیکن یہ جنگلات کا حصہ ہے جو کہ دہرہ کی گلی تک چلتا ہے جہاں پیر کو انکانٹر شروع ہوا۔”جمعرات کو شام کے اوقات میں ، فوج کی سرچ پارٹی جنگل کے علاقے میں آگے بڑھ رہی تھی جب وہ چھپے ہوئے عسکریت پسندوں کی طرف سے شدید فائرنگ کی زد میں آئے اور فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا۔انہوں نے بتایا کہ شام چھ سے ساڑھے چھ بجے کے درمیان یہ واقعہ پیش آیا اور میں ایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر اور ایک جوان شدید زخمی ہوئے جنہیں دونوں کو نکال لیا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے پانچ روز سے جاری تصادم آرائی میں متعدد اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔














