جموں/ضلع ڈوڈہ میں 5.4 کی شدت کے زلزلے کے ایک روز بعد جموں وکشمیر میں بدھ کی صبح یکے بعد دیگرے چار زلزلوں کے جھٹکے محسوس کئے گئے جن سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔معلوم ہوا ہے کہ زلزلوں کے جھٹکوں کی وجہ سے متعد د سرکاری اور نجی عمارتوں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ نیشنل سینٹر فار سیسمالوجی کے مطابق پہلا زلزلہ ضلع ڈوڈہ میں بدھ کی علی الصبح 2 بجکر 20 منٹوں پر آیا جس کی ریکٹر اسکیل پر شدت 4.3 ریکارڈ کی گئی اور زیر زمین اس کی گہرائی 10 کلو میٹر تھی۔اسی ضلع میں 21 منٹوں کے وقفے کے بعد دوسرا ضلع ٹھیک 2بدھ کی علی الصبح بجکر 41 منٹوں پر آیا جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 2.8 ریکارڈ کی گئی جبکہ زیر زمین اس کی گہرائی 10 کلو میٹر تھی۔تیسرا زلزلہ بھی ضلع ڈوڈہ میں ہی بدھ کی صبح 7 بجکر 56 منٹوں پر آیا جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر3.5 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کی زیر زمین گہرائی 10 کلو میٹر تھی۔چوتھے زلزلے کے جھٹکے ضلع کشتواڑ میں 8 بجکر 29 منٹوں پر محسوس کئے گئے۔سینٹر کے مطابق اس زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 3.3 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کی زیر زمین گہرائی 5 کلو میٹر تھی۔بتادیں کہ جموں وکشمیر میں منگل کی دو پہر کو 5.4 کی شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے جس کا مرکز ضلع ڈوڈہ تھا اور اس زلزلے سے ڈوڈہ اور کشتواڑ اضلاع میں کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ جموں وکشمیر زلزلیاتی پیمانے پر سب سے زیادہ خطرناک زون پانچ اور چار میں آتا ہے۔ادھر جموں وکشمیر کے ڈوڈہ اور کشتواڑ اضلاع میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران زلزلے کے شدید جھٹکوں کی وجہ متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ عمارتوں کو ہوئے نقصان کے پیش نظر ضلع ترقیاتی کمشنر نے بدھ کے روز کشتواڑ اور ڈوڈہ میں تعلیمی ادارے بند رکھنے کے احکامات صادر کئے۔چیف ایجوکیشن آفیسر کشتواڑ نے ضلع بھر میں آٹھویں جماعت تک کے سبھی سرکاری و نجی تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا۔ذرائع نے بتایا کہ ڈوڈہ اور کشتواڑ میں زلزلوں سے ہوئے نقصان کا تخمینہ لگانے کی خاطر متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں














