دلی سے لیہ اور پیرس کاکرایہ یکساں رہا ،سرینگر کا شرح کرایہ 86فیصد بڑھا ،مقامی سیاحتی صنعت نالاں
سرینگر//گرمی کے موسم میں سیاحتی سیزن کے اچھال کے دوران ہی ہوائی سفرمہنگا ہونے کے نتیجے میں کشمیر اور لداخ سمیت ملک کے کئی سیاحتی منازل متاثر ہوئی ہیں اور اب سیاحوں کی دلچسپی بیرونی ممالک کے مقامات کی طرف بڑھ رہی ہے کیونکہ انہیں اسی پیکیج میں بیرونی ممالک جانے کا موقع مل رہا ہے ۔۔مئی کے مہینے کے اعداد وشمار کے مطابق دہلی سے لیہہ واپسی کا کرایہ 52,000 روپے تک پہنچ گیا جو کہ دہلی سے پیرس کی واپسی کے لیےبھی ہے۔ کچھ دن پہلے اس انتہائی مانگ کے موسم میںبعض راستوں پر ہوائی کرایوں میں زبردست اضافہ 3 مئی سے گو فرسٹ کی گراو¿نڈ ہونے والی پروازوں کے بعد ہوا ہے، جس سے ہوابازی کے شعبے سے صلاحیت ختم ہو گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گو فرسٹ کی تفریحی مقامات جیسے سری نگر، لیہہ اور گوا پر زیادہ پروازیں چلتی تھیں جبکہ اسکے بند ہونے سے پونے اور احمد آباد بھی متاثر ہوئے ہیں۔ہوائی سیکٹر کے اعداد وشمار پر کام کرنے والی ایجنسی سیریم کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مئی کے لیے گو فرسٹ کے دائر کردہ شیڈول کے مطابق، ایئر لائن کو دہلی سے سری نگر کے لیے 199 پروازیں، دہلی،لیہہ روٹ پر 182 پروازیں اور ممبئی سے گوا کے لیے 156 پروازیں چلانی تھیں۔

ایئر لائن نے دہلی۔سری نگر اور ممبئی۔گوا روٹس پر 30 میں سے 6 نان اسٹاپ پروازیں، دہلی۔ممبئی روزانہ کی 52 پروازوں میں سے چھ، دہلی-لیہہ کی 13 پروازوں میں سے پانچ اور دہلی پر 10 میں سے تین پروازیں شامل کی تھیں لیکن یہ پروازیں تین مئی سے نہیں چل پائیں جس کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوگئی ۔پچھلے سیزن کے مقابلے اس موسم گرما میں ہوائی کرایے پہلے ہی زیادہ ہیں کیونکہ کیریئر پوری صلاحیت کو تعینات کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ سپلائی کی رکاوٹ کی وجہ سے ہے جس کے نتیجے میں ہوائی جہازوں کی ترسیل میں کمی آئی ہے۔ گھریلو ہوائی سفر اس مارچ سے اب تک کی نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے اور تمام ایئر لائنز 90% سے زیادہ بکنگ کی اطلاع دے رہی ہیں۔3 مئی کو گو فرسٹکےطیاروں کو گراو¿نڈ کرنے کے فوراً بعد ہی کئی راستوں پر کرایوں میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا تھا۔ دہلی۔لیہہ روٹ پر اوسطا یک طرفہ کرایہ 3سے 10 مئی کے دوران 125 فیصد بڑھ کر اوسطاً 13,674 روپے تک پہنچ گیا گیا۔ اسی تقابلی مدت کے دوران دہلی ۔سری نگر روٹ پر اوسط یک طرفہ کرایہ 86 فیصد بڑھ کر 16,898 روپے ہو گیا۔عام مسافر اور خصوصا کشمیر کا سیاحتی سیکٹر اس حوالے سے پریشان ہے اور سرکار سے پوچھ رہا ہے کہ ہوائی کرایوں میں استحکام کب تک آئے گا۔ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن آف کشمیر کے چیئرمین فاروق احمد کٹھو نے کہاکہ فی الحال صورتحال میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ مئی اور جون کے سیزن میں کشمیر کی سیاحت صرف ہوائی کرایو ں کی وجہ سے متاثر ہورہی ہے ،جوکہ توجہ طلب ہے۔گو فرسٹ کے شٹ ڈاو¿ن نے ہوائی سفری صلاحیت کومتاثر کر دیا ہے، جس کی وجہ سے طلب اور رسد میں عدم مماثلت پیدا ہو گئی ہے، ایئرلائن کے ایگزیکٹوز کا کہنا ہے کہ دیگر ایئر لائنز کی طرف سے فلیٹ میں اضافہ بہت جلد اس خلا کو پر کر دے گا۔ گو فرسٹ کا مارکیٹ شیئر 7 فیصد تھا۔ایئر انڈیا اور انڈیگو سمیت ایئر لائنز نے گو فرسٹ کے ذریعہ چھوڑے گئے خلا کو پر کرنے کے لئے نئی پروازیں شروع کیں۔ ایئر انڈیا نے دہلی۔سری نگر اور دہلی۔لیہہ جیسے راستوں پر پروازوں کی تعداد میں اضافہ کیاہے ۔ انڈیگو نے ممبئی سے دونوں شہروں کو جوڑنے والی پروازیں شروع کیں۔ وستارا نے دہلی-ممبئی فلائٹ فریکوئنسی میں اضافہ کیا۔مسافروں کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہندوستانی کیریئر اس مالی سال میں تقریباً 115 طیارے شامل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان طیاروں کا ایک بڑا حصہ مارکیٹ لیڈر انڈیگو اور ایئر انڈیا کے ذریعہ شامل کیا جائے گا اور اسے گھریلو راستوں پر ہی تعینات کیا جائے گا۔ تاہم، ہندوستان کی سب سے بڑی ایئر لائن IndiGo نے Go First کے گراو¿نڈ ہونے کے بعد اپنی صلاحیت کی پیشن گوئی میں اضافہ نہیں کیا ہے۔ایئر لائن کے ایگزیکٹوز کا کہنا ہے کہ مختصر مدت میں کرایوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، لیکن دیگر ایئر لائنز کی طرف سے صلاحیت میں اضافے کے ساتھ کرایہ اعتدال پر آجائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ گو فرسٹ عملی طور پر 30 فیصد سے کم صلاحیت پر کام کر رہا تھا اور صنعت کے لیے اس جگہ کو پ±ر کرنا مشکل نہیں ہوگا۔














