عیدگاہ کی 200 کنال وقف اراضی سے جلد قبضہ چھڑایا جائے گا
سرینگر/03اپریل///جموں و کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹر درخشا اندرابی نے کہا کہ پائین شہر کے عیدگاہ گراو¿نڈ میں 200 کنال وقف اراضی "غیر قانونی طور پر قبضے میں لی گئی جو کو جلد ہی چھڑانے کےلئے کارروائی کی جائے گی اور یہ اراضی عوامی بھلائی کے لیے استعمال کی جائے گی، ایک بار جب اس کو چھڑا لیا جائے گا۔تو اس کو دیگر کاموں میں استعمال میں لایا جاسکتا ہے جس سے عام لوگوںکو فائدہ ملے ۔ وقف چیئرپرسن نے یہ بھی کہا کہ موسم سازگار رہنے کی صورت میں عید الفطر کی نماز باجماعت عیدگاہ میں ادا کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سمت میں تیاریاں پہلے ہی سے جاری ہیں۔ ڈاکٹر اندرابی نے کہا کہ عیدگاہ میں 200 کنال اراضی پر قبضہ کیا گیا ہے اور وقف بورڈ اس کی جائیداد کو جلد از جلد قبضہ کرنے والوں سے واپس لے لے گا۔انہوں نے کہا کہ زمین پر قبضہ کرنے والوں سے آزاد ہوتے ہی زمین کو عوامی بھلائی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔“لوگوں نے عیدگاہ کے علاقے میں وقف اراضی پر غیر قانونی رہائشی ڈھانچے، فیکٹری آو¿ٹ لیٹس تعمیر کر رکھے ہیں۔ اب ایک حکمت عملی وضع کی جا رہی ہے کہ اسے کیسے واپس لیا جائے، اور لوگوں کو یہ کیسے احساس دلایا جائے کہ انہوں نے وقف کی زمین پر قبضہ کر لیا ہے وقف چیئرپرسن نے یہاں وقف ہیڈ آفس میں ایک اجلاس کی صدارت کرنے کے بعد میڈیا کو بتایا، انہوں نے مزید کہا کہ 200 کنال زمین پر ناجائز قبضہ کیا گیا ہے۔ تجاوزات سے چھڑا لیا جائے گا۔اس سوال کے جواب میں کہ آیا اس سال عید گاہ میں عید الفطر کی نماز ادا کی جائے گی یا نہیں، انہوں نے کہا کہ ہاں اگر موسم سازگار رہا تو عید کی نماز عیدگاہ میں ادا کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے گراو¿نڈ کی صفائی جیسی تیاریاں شروع کر دی ہیں اور اگر موسم نے اجازت دی تو اللہ کی مدد سے اس سال عید گاہ میں عید الفطر کی نماز ادا کی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ وقف بورڈ ایک ملی ادارہ ہے جس کی حفاظت ہر کسی شہری کا فرض ہے تاہم اس کو سابقہ دور میں آمدنی اور لوٹ کھسوٹ کا ذریعہ بنایا گیا تھا۔














