مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں کل ایک مندر میں رام نومیکی تقریبات کے دوران ایک باؤلی کی چھت گرجانے سے کم سے کم 33 عقیدت مندوں کی جانیںضائع ہوگئیں۔ ہمارے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے اندور کے پولیس کمشنر مکراند دیوسکرنے کہا کہ بچاؤ اورراحت کا کام اب بھی جاری ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اندور کے بیلیشور مہادیوجھُولے لال مندر میں حادثہ کے بعد 40 سے زیادہ عقیدت مند باﺅلی میں گرگئے تھے۔ صدرجمہوریہ دروپدی مرمو، نائب صدر جمہوریہ جگدیپ دھنکھڑ، وزیر اعظم نریندر مودی اور دیگرکئی رہنماﺅں نے لوگوں کی موت پر تعزیت کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابیکی دعا کی ہے۔ ہمارے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس حادثہمیں مرنے والے ہر شخص کے کنبے کو دو لاکھ روپے اور زخمی ہونے والے ہر شخص کے لیےپچاس ہزار روپے کی امدادی رقم کا اعلان کیا ہے۔ یہ رقم وزیر اعظم کے راحت فنڈ سے دیجائے گی۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے اس معاملے کی تحقیقات کاحکم دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرنے والوں کے کنبوں کو ریاستی حکومت کی طرف سےپانچ پانچ لاکھ روپے، راحت کے طور پر دیے جائیں گے اور زخمیوں میں سے ہر ایک کوپچاس پچاس ہزار روپے دیے جائیں گے اور ان لوگوں کا مفت علاج کیا جائے گا۔ این ڈیآر ایف، ایس ڈی آر ایف اور فوجی دستے سمیت مختلف ایجنسیاں بچاؤ اور راحت کے کام میں مصروف ہیں۔×














