پوری دنیا کیلئے امریکہ کا نیا فتنہ
”امریکا کے پاس دنیا کو ایسی جگہ پر لے جانے کی صلاحیت ہے جو پہلے کبھی نہیں تھی“
واشنگٹن: ۵۱ اکتوبر (ایجنسیز) امریکا نے کے صدر نے اپنے تازہ بیان میں دنیا بھر میں ایک نیا فتنہ کردیا ہے۔ جو بائیڈن نے کہا ہے کہ پاکستان شاید دنیا کی خطرناک ترین اقوام میں سے ایک ہے کیونکہ اس کے ’جوہری ہتھیار غیرمنظم ہیں‘۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈیموکریٹک کانگریس کی مہم کمیٹی کے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وائٹ ہاو¿س کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے خطاب کی ایک نقل میں جو بائیڈن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ’اور پاکستان میرے خیال میں شاید دنیا کی خطرناک ترین قوموں میں سے ایک ہے کیونکہ ان کے ’جوہری ہتھیار غیرمنظم ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور ممالک اپنے اتحاد پر نظرثانی کر رہے ہیں اور اس معاملے کی سچائی یہ ہے کہ میں حقیقی طور پر اس پر یقین رکھتا ہوں کہ دنیا ہماری طرف دیکھ رہی ہے، یہ کوئی مذاق نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہاں تک کہ ہمارے دشمن بھی یہ جاننے کیلئے ہماری طرف دیکھ رہے ہیں کہ ہم اسے کس طرح سمجھتے ہیں، ہم کیا کرتے ہیں۔ بائیڈن نے کہا کہ بہت کچھ داو¿ پر لگا ہوا ہے، ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ امریکا کے پاس دنیا کو ایسی جگہ پر لے جانے کی صلاحیت ہے جو پہلے کبھی نہیں تھی۔ امریکی صدر نے کہا کہ ’کیا آپ نے کبھی سوچا کہ کیوبن میزائل بحران کے بعد سے آپ کے پاس ایسا روسی رہنما ہوگا جو ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی دے گا جس سے صرف 3 سے 4 ہزار لوگ قتل ہوں گے اور ایک نقطہ نظر تک محدود ہوگا۔ اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے انہیں ایک ایسا شخص قرار دیا جو جانتے ہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں لیکن ان کے ساتھ ’بہت زیادہ‘ مسائل تھے۔ امریکی صدر نے کہا کہ روس میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے مقابلے میں ہم اسے کیسے سنبھالیں گے؟ اور میرے خیال میں شاید دنیا کی خطرناک ترین قوموں میں سے ایک ہے، پاکستان۔ جس کے پاس جوہری ہتھیار غیرمنظم ہیں۔ قبل ازیں پاکستان جو کبھی امریکا کا اہم اتحادی سمجھا جاتا تھا، امریکا کی قومی سلامتی کی حکمت عملی 2022 میں بھی اس کا ذکرتک نہیں کیا گیا تھا جبکہ چین کو ’امریکا کے سب سے زیادہ نتیجہ خیز جغرافیائی سیاسی چیلنج‘ کے طور پر شناخت کیا گیا۔ امریکی صدر کے حالیہ بیان پر ڈان کی درخواست پر ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے فوری ردِ عمل دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کی تقریر کا بغور جائزہ لیا جارہا ہے۔














