ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (SIA)جموں وکشمیر میں ملی ٹنسی وتشدد کی سرگرمیوں کیلئے منشیات اسمگلنگ کے ذریعے کی جانے والی فنڈنگ وفائنانسنگ کے کیس کی تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر ہفتے کی صبح وسطی اور شمالی کشمیر میں متعدد مقامات پر چھاپے مارے،اورتلاشی کارروائی عمل میں لائی گئی ۔اطلاعات کے مطابق ملی ٹنٹ سرگرمیوں کیلئے منشیات اسمگلنگ وکاروبار کے ذریعے کی جانے والی مالی معاونت یعنی فنڈنگ وفائنانسنگ سے جڑے کیس کے سلسلے میں تحقیقات کو جاری رکھتے ہوئے ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (SIA)کی ٹیموںنے مقامی پولیس اور سی آر پی ایف کی مدد سے گرمائی دارالحکومت سری نگر، بڈگام، کپواڑہ اضلاع میں چھاپے مارے۔سری نگر میں ہوٹل المانڈس واقع لال منڈی کے کمرہ نمبر219 میں چھاپہ مارا ،جہاں ٹھہرے ہوئے ایک شخص گلزار احمد میر ولد غلام نبی ساکن کشتواڑ سے پوچھ تاچھ کی گئی اورکمرے کی باریک بینی سے تلاشی بھی لی گئی ،بتایاجاتاہے کہ گلزار احمد میر محکمہ زراعت میں بطورسوئل اسسٹنٹ کے تعینات ہے ۔ ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (SIA) کی ایک اور ٹیم نے وسطی کشمیر کے بڈگام ضلع میں بٹ پورہ کچواری کے رہنے والے بشیر احمد ڈار ولد غلام احمد کے گھر پر چھاپہ مارا۔معلوم ہواکہ یہاں بھی ایس آئی اے کے اہلکاروںنے تلاشی کارروائی عمل میں لائی اورپوچھ تاچھ کی ۔ ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (SIA)کے ذرائع نے چھاپوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ جو منشیات فروخت کرکے دہشت گردی کی مالی معاونت کے گٹھ جوڑ میں ملوث پائے گئے تھے، کو قانون کے متعلقہ سیکشنز کے تحت گرفتار کیا گیا ہے اور اس گٹھ جوڑ میں کچھ اور لوگوں کے ملوث ہونے کے بارے میں تحقیقات جاری ہے جو پہلے ہی زیر تفتیش ہیں۔ انہوںنے بتایا کہ ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (SIA) کو سرحد پار سے منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی کے ماڈیولز، علیحدگی پسندوں، دہشت گرد تنظیموں کے اوﺅر گراو¿نڈ کارکنوں اور مارے گئے دہشت گردوں کے خاندانوں کی مالی اعانت کےلئے اس سے فنڈز پیدا کرنے کے حوالے سے کئی شواہد ملے ہیں۔













