اقتصادی بحران کے بعد خفیہ راستوں کے ذریعے یورپی یونین تک پہنچنے کی کوششوں میں اضافہ
دمشق: ۳۲ ستمبر (ایجنسیز) شام میں دمشق کے ساحل کے قریب پڑوسی ملک لبنان سے آنے والی کشتی ڈوبنے سے 34 تارکین وطن ہلاک ہو گئے۔ لبنان شام میں خانہ جنگی کے سبب 10لاکھ سے زائد افراد کی میزبانی کرنے والا ملک لبنان گزشتہ تین سالوں سے اقتصادی بحران کا شکار ہے اور اسی وجہ سے وہاں سے خفیہ راستوں کے ذریعے یورپی یونین تک پہنچنے کی کوششوں میں اضافہ ہوا ہے۔ شام کی وزارت صحت نے ایک بیان میں کہا کہ مردہ پائے جانے والے افراد کی تعداد 34 ہے اور طرطوس کے ایک ہسپتال میں زندہ بچ جانے والے 20 افراد کا علاج کیا جا رہا ہے۔ طرطوس شام کی مرکزی بندرگاہوں میں جنوب میں واقع ہے اور یہ شمالی لبنان کے بندرگاہی شہر طرابلس سے تقریباً 50 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ شامی حکام نے ابتدائی طور پر 15 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی جس کے بعد اس تعداد کو 28 کر دیا گیا اور اس کے فوراً بعد مزید چھ کا اضافہ کیا گیا۔ شام کی ثنا نیوز ایجنسی اور وزارت صحت نے بتایا کہ تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی ہے۔ شامی بندرگاہوں کے سربراہ سمر کبرسلی نے وزارت ٹرانسپورٹ کی طرف سے جاری کردہ ایک ابتدائی بیان میں کہا کہ زندہ بچ جانے والوں کے مطابق ان کی کشتی کچھ دن پہلے لبنان سے روانہ ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی ماہی گیر کشتی کی بازیابی کے لیے جاری کوششوں کی حمایت کر رہے تھے۔ لبنان میں پچھلے سال کے دوران ایسے تارکین وطن کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو گنجائش سے زیادہ مسافروں سے بھری کشتی میں جان کو خطرے میں ڈال کر یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔













