سری نگر/جموں خطے میں بڑھتے ہوئے حملوں کے بیچ پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جموں وکشمیر کے پولیس سربراہ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ جموں خطے میں جوانوں کے جان بحق ہونے پر کوئی جوابدہی نہیں ہے ۔ان باتوں کا اظہار محبوبہ مفتی نے سری نگر میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس کے دوران کیا۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ 32مہینوں کے دوران ملی ٹینٹ حملوں میں 52فوجی جوان جاں بحق ہوئے ہیں تاہم سرکار کی جانب سے کوئی احتساب نہیں ہے ۔ محبوبہ مفتی نے کہاکہ گزشتہ رات ڈوڈہ میں ملی ٹینٹوں کی فائرنگ میں ایک سینئر آفیسر سمیت پانچ اہلکار جاں بحق ہوئے ۔مفتی نے ڈی جی پی آر آر سیون پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ "سیاسی طور پر چیزوں کو ٹھیک کرنے ” میں زیادہ مصروف ہیں۔انہوں نے کہاکہ پولیس سربراہ کو سیاست کے بجائے سیکورٹی گرڈ کو مضبوط کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہئے ۔محبوبہ مفتی نے کہا :‘موجودہ پولیس سربراہ آر آر سوین سیاسی طورپر معاملات ٹھیک کرنے میں مصروف عمل ہے ، ان کا کام یہ رہا ہے کہ پی ڈی پی کے لوگوں کو کیسے توڑا جائے ، عام شہریوں اور صحافیوں کے کیسے ہراساں کیا جائے اور لوگوں پر یو اے پی اے کے تحت مقدمات درج کرنے کے طریقے ڈھونڈے جارہے ہیں ۔’انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر میں ایماندار بیروکریٹ اور پولیس آفیسران نے اپنی خدمات خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دی ۔ اور ان آفیسران نے ایسا کام نہیں کیا جس طرح سے موجودہ ڈی جی پی کر رہے ہیں۔محبوبہ مفتی نے ڈی جی پی پر کشمیریوں کے ساتھ پاکستانیوں جیسا سلوک روا رکھنے کا بھی سنگین الزام لگایا ۔پولیس سربراہ کے خلاف محبوبہ مفتی کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب کل پولیس چیف نے کامیاب دراندازی کے لئے علاقائی سیاسی جماعتوں کو مردہ الزام ٹھرایا تھا۔سابق وزیر اعلیٰ نے پولیس سربراہ کو ہدفہ تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ دراندازی کو روکنا محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کا کام نہیں بلکہ یہ سیکورٹی ایجنسیوں کا کام ہے ۔پی ڈی پی سربراہ مفتی نے کہا، "فوجی اپنی ڈیوٹی کے لیے کشمیر آتے ہیں لیکن تابوت میں واپس چلے جاتے ہیں۔ اس کے لیے کون ذمہ دار ہے اس کا تعین ہونا چاہئے ۔ان کے مطابق ڈی جی پی کو مین اسٹریم پارٹیوں پر الزامات لگانے کے بجائے سیکورٹی گرڈ کو مضبوط کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے ۔انہوں نے کہاکہ موجودہ پولیس سربراہ نے جموں وکشمیر کے اکثریتی طبقے کو الگ تھلگ کر دیا ہے ۔ان کے مطابق پارلیمانی انتخابات کے دوران شمالی کشمیر کے لوگوں نے ایک ایسے لیڈر کو چنا جو حق خود ارادیت اور رائے شماری کی بات کرتا ہے ، گزشتہ چھ برسوں سے بی جے پی یہاں پر حکومت کر رہی ہیں لیکن ابھی تک وہ لوگوں کی سوچ کو بدلنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے ۔مفتی نے وزیر داخلہ اور وزیر دفاع سے جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ حملوں اور ہلاکتوں کا نوٹس لینے اور جوابدہی طے کرنے کی اپیل کی۔مفتی نے دعویٰ کیا کہ [؟]موجودہ ڈی جی پی کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔













