آنگ مٹی پورہ اننت ناگ میں گورنمنٹ مڈل سکول میں زیر تعلیم 85 بچے صرف 2 کمروں میں پڑھائے جارہے ہیں جہاں پر نہ سوشل دوری کا کوئی پاس و لحاظ رہتا ہے اورناہی طلبہ ٹھیک طرح سے پڑھائی کرپارہے ہیں۔ اس صورتحال پر مقامی لوگوں نے متعلقہ محکمہ کے خلاف شدید برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دور دراز علاقوں میں قائم سکولوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے دور دراز علاقوں میں قائم سرکاری سکول سرکار اور متعلقہ محکمہ کی نظروں سے ا±جھل ہیں جہاں پر بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا شوق تو ہے لیکن انہیں سہولیات مئیسر نہیں ہے جس کی وجہ سے دور درازعلاقوں کے بچے معیاری تعلیم سے محروم رہتے ہیں۔ جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں آنگ مٹی پورہ گا?ں میں 2004 میں پرائمری سکول قائم کیاگیا جس کو 2014 میں اپ گریڈ کرکے مڈل سکول بنایا گیا لیکن پرائمری سکول کےلئے جو ا±س وقت عمارت تھی اسی عمارت کے تین کمروں میں مڈل سکول کو بھی چلایا جارہا ہے۔ آنگ مٹی پورہ اننت ناگ چونکہ ایک وسیع آبادی پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے سکول میں بچوں کا رول بھی کافی ہے۔ سکول میں 85سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں اگرچہ سکول میں عملہ کی کوئی قلت نہیں ہے لیکن سکولی عمارت صرف تین کمروں پر مشتمل ہے جن میں سے ایک دفتری کام کاج کےلئے ہے جبکہ دیگر دو کمروں میں 9 کلاسوں کو پڑھایا جارہا ہے۔ دو کمروں میں 85 بچے جب ایک ساتھ جمع کردئے جائیں گے تو کلاس روم میں پڑھنے اور پڑھانے کا عمل متاثر ہوجاتا ہے۔ سکول میں تعینات اساتذہ کا کہنا ہے کہ سکول میں بچوں کو پڑھانے کا کام بہت مشکل بن جاتا ہے کیوں کہ ایک ہی کمرے میں تین چار کلاسوں کے بچوں کو رکھ کر بچوں کو پڑھانا ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب موسم بہتر ہوتا ہے تو ہم بچوں کو سکول صحن میں پڑھاتے ہیں جو کلاسوں کے بنسبت بہتر ہوتا ہے – انہوں نے کہا کہ سکول کےلئے مزید کمروں کے تعمیر یا دوسری عمارت کے حوالے سے کئی بار تحریری طور پر زیڈ ای او سے مطالبہ کیا گیا تاہم محکمہ کی جانب سے اس طرف کوئی دھیان نہیں دیا جارہا ہے۔ اس دوران مقامی لوگوں نے سی این آئی نمائندے امان ملک کو بتایا کہ سرکار اور محکمہ ایجوکیشن کی جانب سے سکول کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔














