اساتذہ کو چالیس ہزار ٹیبلٹس فراہم ہوں گے اور بلیک بورڈ کے بجائے سمارٹ بورڈ سکولوں کو ملیں گے
سرکاری سکولوں میں درس و تدریس کے کام کاج کو اب ڈیجیٹل شکل دی جارہی ہے ۔ سماگر شکھشا کے تحت اساتذہ کو 40ہزار ٹیبلٹس فراہم کی جائیں گی جس سے وہ بچوں کو پڑھائیں گے ۔ اس کے علاوہ سرکاری سکولوں میں اب بلیک بورڈ کے بجائے سماٹ ڈیجیٹل بورڈ ہوں گے جس پر چاک کے بچائے مصنوعی قلم سے لکھا جائے گا اور یہ انٹرنیٹ سے جڑا رہے گا۔ اطلاعات کے مطابق سرکاری سکولوں میں ٹیچنگ اینڈ لرنگ کے عمل کو بہتر بنایا جارہا ہے جس کے تحت پہلے مرحلے میں پرائمری سطح کے 40 ہزار اساتذہ کو ٹیبلٹ فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ سماگرا شکشا جلد ہی ٹیبلٹس کی خریداری کے لیے ٹینڈر کا عمل شروع کرے گا۔سرکاری سکولوں کے چھوٹے بچے اب بلیک بورڈ استعمال کرنے کے بجائے ڈیجیٹل طریقے سے تعلیم حاصل کریں گے۔ اس کے لیے محکمہ سکول ایجوکیشن نے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ چاک سے لکھنے کی روایت ختم کرنے کے لیے اساتذہ کو ٹیبلٹ دیے جائیں گے۔ اس سے دو فائدے ہوں گے۔ پہلا یہ کہ متعلقہ مضامین کے اساتذہ سرچ انجن کے ذریعے اپنے علم میں اضافہ کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ آپ بچوں کو آسان طریقے سے پڑھا سکیں گے۔ دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ بجلی کی خرابی کی صورت میں بھی پڑھائی متاثر نہیں ہوگی۔ٹیبلٹ اساتذہ کو پرائمری سطح کے بچوں کے لیے پڑھنے کا بہتر مواد تیار کرنے میں مدد دے گا۔ پرائمری سطح کے اسکولوں کو نپن بھارت مشن کے تحت اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے، تاکہ اس کا ہدف وقت پر حاصل ہو سکے۔ پرائمری اسکولوں کے اساتذہ کو ٹیبلٹ فراہم کرنے سے ڈیجیٹل لرننگ کو فروغ ملے گا اور بچوں کو اس مضمون کو پڑھنے اور سمجھنے میں مدد ملے گی۔سماگرا شکشا پروجیکٹ کے ڈائریکٹر دیپ راج نے کہا کہ صرف بچوں کو ہی نہیں بلکہ اساتذہ کو بھی تعلیم میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال سے واقف ہونے کی ضرورت ہے۔














