تاریخ میں پہلی بار جموں کشمیر میں اس طرح کا کوئی بین الاقوامی اجلاس منعد ہوگا
سرینگر/22دسمبر///تاریخ میں پہلی بار جموں کشمیر کو جی ٹونٹی سربراہی اجلاس میں آنے والے مہمانوں کی میزبانی کا موقع فراہم ہورہا ہے۔ وادی کشمیر میں مجوزہ اجلاس سے یہاں کی سیاحت کو بین الاقوامی شہرت نصیب ہوگی اور یہاں پر غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں اس سے اضافہ کا امکان ہے۔ سی این آئی کے مطابق G-20 سربراہی اجلاس کی میزبانی کے لیے جموں و کشمیر میں تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ اگلے سال منعقد ہونے والی چوٹی کانفرنس میں سربراہان مملکت کو جموں و کشمیر کی خوبصورتی کو قریب سے محسوس کرنے کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومتیں سیاحتی مقامات کو نشان زد کرنے کا کام کر رہی ہیں۔سرکاری ذرائع کے مطابق جموں و کشمیر G-20 سربراہی اجلاس کی میزبانی کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ ایسے میں سربراہان مملکت کو دنیا کی مشہور ڈل جھیل میں شکار کرکے کشمیر کی دلفریب خوبصورتی کا احساس دلایا جائے گا۔ یہی نہیں بلکہ انہیں جموں و کشمیر کی عالمی سطح کی سیاحتی صلاحیتوں کو دکھانے کے لیے گلمرگ کے دورے پر بھی لے جایا جا سکتا ہے۔ساتھ ہی جموں و کشمیر کے کھانوں کا ذائقہ اور بھرپور ثقافت کی جھلک بھی دکھائی جائے گی۔ قابل ذکر ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر G-20 سربراہی اجلاس کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ G-20 سربراہی اجلاس بھی ایک بھارت شریشٹھ بھارت کی تصویر دکھانے کا بہترین موقع ہے۔G-20 گروپ میں شامل ممالک میں امریکہ، ارجنٹائن، آسٹریلیا، برازیل، یورپی یونین، کینیڈا، چین، فرانس، بھارت، انڈونیشیا، اٹلی، جاپان، میکسیکو، روس، سعودی عرب، جنوبی افریقہ، کوریا، ترکی، برطانیہ شامل ہیں۔ جموں و کشمیر میں G-20 سربراہی اجلاس کی تاریخ ابھی طے ہونا باقی ہے۔ جہاں تک تیاریوں کا تعلق ہے تو سیاحتی مقام مہمانوں کے استقبال کے لیے تیار ہے۔ محکمہ سیاحت وہی تیاریاں کرے گا جس طرح حکومت کی طرف سے رہنما خطوط جاری کیے جائیں گے۔













