ڈونالڈ ٹرمپ کو لگا بڑا جھٹکا! جنسی ہراسانی کیس میں قصوروار قرار دئیے گئے، عدالت نے لگایا 410 کروڑ کا جرمانہ۔ فائل فوٹوڈونالڈ ٹرمپ کو لگا بڑا جھٹکا! جنسی ہراسانی کیس میں قصوروار قرار دئیے گئے، عدالت نے لگایا 410 کروڑ کا جرمانہ۔
امریکی صحافی، مصنفہ اور کالم نویس نے کہا کہ ٹرمپ نے خواتین کے انڈرگارمنٹس خریدنے میں ان سے مدد مانگی تھی اور اسی دوران انہوں نے کپڑے بدلنے کے کمرے میں ان سے ریپ کیا۔
ایک امرکی عدالت بنچ نے منگل کو ملک کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو امریکہ کی ایک صحافی کا جنسی ہراسانی اور ہتک عزت کرنے کے لیے جوابہ دہ پایا اور ان کو ہرجانے میں 5 ملین ڈالر (ہندوستانی کرنسی میں قریب 410 کروڑ روپے) کی ادائیگی کرنے کا حکم دیا ہے۔ سماعت کے دوران ججوں کی نو رکنی بنچ نے ای۔جین کیرل کی عصمت دری کے الزام کو مسترد کردیا، لیکن تین گھنٹے سے بھی کم وقت کے غوروفکر کے بعد باریکی سے دیکھے گئے سول ٹرائل میں ان کی دیگر شکایتوں کو برقرار رکھا۔یہ پہلا موقع ہے جب ٹرمپ کے خلاف کیس میں فیصلہ سنایا گیا ہے۔ ٹرمپ کو کئی دہائیوں پرانے جنسی بدانتظامی کے الزامات اور درجن بھر خواتین کے قانونی مقدمات کا سامنا ہے۔ کیرول نے اس معاملے میں ہرجانے کے لیے ٹرمپ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ وہ سابق صدر سے اس بیان کو واپس لینے کا بھی مطالبہ کر رہی ہیں کہ کیرول کی طرف سے لگائے گئے الزامات ہتک آمیز ہیں۔امریکی صحافی، مصنفہ اور کالم نویس ای جین کیرول (79) نے گزشتہ سال اپریل میں ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف عدالت میں سماعت کے دوران الزام لگایا تھا کہ ملک کے سابق صدر نے ایک لگڑری ڈپارٹمنٹ اسٹور میں ان کے ساتھ ریپ کیا تھا۔ کیرول نے کہا تھا کہ وہ 1996 میں کسی جمعرات کی شام کو برگڈورف گڈمین میں ٹرمپ سے ملی تھیں، جہاں ٹرمپ نے خواتین کے انڈرگارمنٹس خریدنے میں ان سے مدد مانگی تھی اور اسی دوران انہوں نے کپڑے بدلنے کے کمرے میں ان سے ریپ کیا۔














