لاہور ،5اپرےل /حکومت اور خےراتی تنظےمو ںکی طرف سے اور دوسرے غذائی اشےاءکی مفت تقسےم کے دوران ابتک 20سے زےادہ لوگ مارے گئے ہےں اور درجنو ں زخمی ہوئے ہےں ۔جب کہ ضرورتمندوں کی بھےڑ اےک دوسرے پر گتھم گھتا ہوگئے ۔ ہر دن مےں جن مےں عورتےں بھی شامل ہےں لمبی لمبی قطارےں سرکاری اور خےراتی تنظےموں کے دکانوں کے سامنے دےکھی گئےں اور اکثر لوگوںکو خالی ہاتھ واپس بھی جانا پڑتا ہے اور اس سے ےہ اندازہ لگا ےا جا سکتا ہے کہ مہنگائی اور معاشی حالت نے پاکستان مےں کس قسم کے حالات پےدا کردےئے۔ حال ہی مےں اےک خےراتی تنظےم نے جب مستحق لوگوںکو پہنچانے کی عمل شرو ع کی اور بھےڑ انتی جمع ہوگئی کہ اور بھگدڑ مچ گئی جن مےں 11لوگ مار ے گئے جن مےں عورتےں اور بچے شامل ہےں ۔ اسی طرح پنجاب مےں کئی لوگ مارے گئے۔ صوبے پنجاب مےںسےنکڑوں کی تعدا دمےں لوگ سحری ختم ہونے کے بعد سرکاری ڈےپو کے پاس جمع ہوتے ہےں تا کہ وہ مفت آٹا حاصل کرسکےں۔ حکومت نے دعوی کےا کہ ابتک انہو ںنے ابتک اےک کروڑ 50لاکھ تھےلے مفت تقسےم کئے۔ ہر غرےب خاندان کو ماہ رمضان کے 25تک دس کلو کے تےن تھےلے دےئے جا ئےں گے۔ جب کہ ےہ اسکےم پنجاب مےں چلا ےا جائےگا ۔ اس کے تحت اےک کروڑ دس لاکھ خاندانو ں کو ےہ آٹا فراہم کےا جا ئےگا ۔ حالانکہ اس کے لئے حکومت نے 20ہزار سے زےادہ دکانےں کھول دی ہےں۔ صوبے سندھ نے مفت آٹا دےنے کے بجائے ہر گھر کو دوہزار روپئے اضافی مدددےنے کا فےصلہ کےا ہے۔ خےبرپختونخواہ مےں بھی مفت آٹا حاصل کرنے پر بھگدڑ مچ گئی ۔ پنجاب کے کئی علاقوں مےں دکانوں کے سامنے بھےڑ اتنی جمع ہوئی کہ اس پر قابو پانا مشکل ہوگےا ۔ صوبے کے شور کوٹ علاقے مےں مفت آٹا تقسےم ہونے کے دوران لوگوںنے اےک دوسرے کے گرےبان پکڑے جس کی وجہ سے پانچ آدمی زخمی ہوئے۔ پولےس پارٹی جو وہاں پر تعےنات تھی کچھ لوگ ان کے ساتھ بھی لڑ پڑے۔ اسی طرح دوسرے کئی شہروں مےں بھی اےک جگہ پر بھےڑ اسکول کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی جہاں آٹا تقسےم کےا جاتا تھا مظفر گڑ ھ مےں بھی لوگوں نے مظاہرے ئے اور آٹا مسحق لوگوںکو نہےں دےا جا رہا ہے اور کچھ لوگوں کا ےہ بھی کہنا ہے کہ سرکاری ااےجنٹ ان سے آٹا حاصل کرنے کے لئے رشوت بھی مانگ رہے ہےں۔ آٹا اور دوسرے غذائی اشےاءکے دام اتنے بڑھ گئے کہ پچھلے دنوں نروال علاقے مےں اےک شخص نے اپنے دوبچوں کےساتھ ندی مےں چھلانگ لگا دی ۔ اسی طرح مظفر نگر مےں بھی اےک آدمی نے اپنے چار سال بچے کے ساتھ حودکشی کی ۔














