کوٹھداراور قصاب یونینوں میں ہول سیل لائسنس اجراءکرکے انہیں جواب دہ بنایا جائے
محکمہ امورصارفین بیرونی منڈیوں کے دورے کرکے صرف خزانہ عامرہ پر بوجھ ڈالنے کا مرتکب
سرینگر// 27مئی/ ٹی ای این / گوشت کی نئی قیمتوں کے تعین کرنے کیلئے محکمہ امور صارفین کشمیر اور کوٹھدار و قصاب یونینوں کا مشترکہ بیرونی منڈیوں کا دورہ مکمل ہوچکا ہے اور اب محکمہ عنقریب ہی گوشت کی نئی قیمتیں مقرر کرنے کیلئے تیاری کررہا ہے ۔اس دوران زمینی سطح پر قصابوں کی رائے منقسم ہے ۔بعض قصابوں کا کہنا ہے کہ یہ جھگڑا در اصل کوٹھدار اور قصاب یونینوں کے درمیان کا ہے ۔سرکاری نرخ مارکیٹ میں رائج نہ رہنے کیلئے جہاں دیگر کئی وجوہات ہیں ،وہیں ایک سب سے بڑی وجہ کوٹھدار اور قصاب طبقوں کی الگ الگ سوچ اور ایک دوسرے کے ساتھ مخاصمت ہے ۔ایک قصاب نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ محکمہ امورصارفین کے پاس وہ اختیارات ہی نہیں ہیں جو گوشت کی قیمتوں کو کنٹرول کرے ۔انہوں نے کہاکہ اگر محکمہ گوشت کی نرخیں قابو میں لانا چاہتی ہے تو اسے وہ ایس آر او نافذ کرنا ہوگا جو ایس آر او اس بڑے حجم کے کاروبار کو کنٹرول کرنے کی بنیاد ہے ۔دراصل کوٹھدار یونین کا ایک طبقہ چاہتا ہے کہ بیرونی منڈیوں سے صرف وہ مال درآمد کرکے قصابوں میں تقسیم کریں لیکن قصابوں کا کہنا ہے کہ وہ کس وجہ سے کوٹھداروں پر منحصر رہیں اور وہ ازخود بیرونی منڈیوں سے گوشت کی درآمد کیوں نہیں کرسکتے ہیں ۔کئی برسوں سے جاری اسی مخاصمت نے گوشت کو بازاروں میں بے قابو کردیا ہے ۔ایک قصاب نے ٹی ای این این کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہاکہ اگر محکمہ واقعی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں سنجیدہ ہے تو اسے بیرونی منڈیوں سے گوشت کی درآمد کیلئے قصابوں اور کوٹھداریونینوں میں لائسنس برابر برابر تقسیم کرنی چاہئے اور اسکے بعد ان یونینوں کو جواب دہ بنانا چاہئے۔گوشت کی بیرونی منڈیوں میں خریدی قیمت اور اسے مارکیٹ تک پہنچانے کی لاگت کا صحیح صحیح حساب و کتاب رکھ کر یہاں کی کوٹھدار اور قصاب یونینوں کے ذمہ داران کو جواب دہ بنایا جانا چاہئے ۔بصورت دیگر محکمہ امور صارفین گوشت کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا صرف خواب ہی دیکھ سکتا ہے













