![]() |
نئی دہلی/صدر دروپدی مرمو نے جمعہ کو کہا کہ ہندوستان کو نایاب زمینی عناصر کی پیداوار میں خود انحصاری حاصل کرنی چاہیے، جو کہ ملک کی ترقی کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے بھی اہم ہے۔یہاں راشٹرپتی بھون کلچرل سینٹر میں نیشنل جیو سائنس ایوارڈ -2024 سے خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے نایاب زمین عناصر کو جدید ٹکنالوجی کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا اور انہیں قابل استعمال بنانے کے لیے ٹیکنالوجیز کو تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔صدر مرمو نے کہا کہ "موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کے پیش نظر، ہندوستان کو اپنی پیداوار میں خود کفیل ہونا چاہیے۔ یہ ایک ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف کو حاصل کرنے اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہے۔ نایاب زمین عناصر جدید ٹیکنالوجی کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ وہ اسمارٹ فونز اور الیکٹرک گاڑیوں سے لے کر دفاعی نظام اور صاف توانائی کے حل تک ہر چیز کو طاقت دیتے ہیں۔صدر نے اس بات پر زور دیا کہ نایا زمینی عناصر کو نایاب سمجھا جاتا ہے اس لیے نہیں کہ وہ نایاب ہیں، بلکہ اس لیے کہ انہیں بہتر بنانے اور قابل استعمال بنانے کا عمل انتہائی پیچیدہ ہے۔صدر مرمو نے کہا کہ "اس پیچیدہ عمل کو پورا کرنے کے لیے دیسی ٹیکنالوجی کو تیار کرنا قومی مفاد میں ایک بڑا حصہ ہوگا۔انہوں نے ماہرین ارضیات پر بھی زور دیا کہ وہ سمندری وسائل کو بروئے کار لانے، ماحولیات اور کارکنوں پر کان کنی کے اثرات کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ سمندری حیاتیاتی تنوع کو پہنچنے والے نقصان کو کم کرنے کے لیے ٹیکنالوجی تیار کریں۔صدر مرمو نے بتایا کہ کس طرح معدنیات نے انسانی تہذیب کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے — پتھر کے زمانے، کانسی کے دور، لوہے کے دور، اور صنعت کاری کے دور سے۔صدر نے کہا کہ جہاں کان کنی معاشی ترقی کے لیے وسائل مہیا کرتی ہے اور روزگار کے بڑے مواقع پیدا کرتی ہے، وہیں اس صنعت کے متعدد منفی اثرات بھی ہیں جن میں رہائشیوں کی نقل مکانی، جنگلات کی کٹائی اور ہوا اور پانی کی آلودگی شامل ہیں۔















