نئی دہلی، 2 اکتوبر (یو این آئی)ویٹ لفٹنگ ہندوستانی کھیلوں کی تاریخ کا ہمیشہ سے ایک اہم حصہ رہی ہے ۔ بلاشبہ ہندستانی کھلاڑیوں نے ویٹ لفٹنگ میں بہت شہرت حاصل کی ہے ۔ خاص کر خواتین نے اس شعبہ میں بہت نام کمایا ہے ۔ ہندستانی ویٹ لفٹرز کی فہرست میں شمال مشرقی ریاستیں قابل ذکر ہیں۔ ان ریاستوں سے بہترین وزن بردار کھلاڑی میدان میں آئے اور ملک کا نام روشن کیا ہے ۔ ان ریاستوں نے ویٹ لفٹنگ کے شعبے میں ہندوستان کے لیے اپنی بہترین خدمات پیش کی ہیں۔ رینو بالا چانو بھی ایک ہندوستانی ویٹ لفٹر ہیں۔ جن کا تعلق شمال مشرقی ریاست امپھال، منی پور کے قریب کیمگی مائی لیکائی گا¶ں سے ہے ۔ منی پور کی اس ہونہار لڑکی نے ویٹ لفٹنگ کے شعبے میں ہندستان کو شہرت دلائی۔کم عمری میں ویٹ لفٹنگ کے کھیلوں میں رینو بالا نے ریاست اور ملک کو اعلی مقام دلایا۔ روینو بالا نے 2007 کے گوہاٹی نیشنل گیمز میں آسام کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنی بہترین صلاحیتوں کا نمونہ پیش کیا اور ریاست کے لیے چار گولڈ میڈل جیت کر ریاست اور ملک کا نام روشن کیا۔ رینو نے ان کامیابیوں اور بلندیوں کو حاصل کرنے کے لئے دن رات سخت محنت کی۔ انہوں نے دن میں تین بار ٹریننگ لینی شروع کی۔ وقت ملتے وہ رات کو بھی اپنی پریکٹس کے لئے وقت نکالتی تھیں۔ انہوں نے کامیابی حاصل کرنے کے لئے اپنی نیند کی بھی پرواہ نہیں کی۔ رینو کی کارکردگی تقریباً ہر مقابلے میں غیر معمولی رہی کیونکہ انہوں نے ثابت کر دیا کہ ان سے زیادہ قیمتی پیلے تمغے کا کوئی اور حقدار نہیں ہے ۔ رینو بالا کا پورانام یمنم رینو بالا چانو ہے ۔ ان کی پیدائش 2 اکتوبر 1986 ہوئی ۔ رینوبالا کا تعلق منی پور سے ہے لیکن وہ آسام کی نمائندگی کرتی ہیں۔ رینو بالا کا کیریئر اس وقت شروع ہوا جب سال 2000 میں امپھال میں اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کے ‘ٹیلنٹ ہنٹ’ کیمپ کے دوران انہیں تربیت کے لیے منتخب کیا گیا، جب ریاستی چمپئن شپ میں چاندی کا تمغہ جیتنے کے بعد، ان کی سفارش اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا سے کی گئی۔ انہوں نے لکھن¶ میں ہنسا شرما اور جی پی شرما کے تحت تربیت حاصل کی۔انہوں نے 2000 میں امپھال میں اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کے زیر اہتمام ٹیلنٹ ہنٹ کیمپ میں شرکت کے بعد ویٹ لفٹنگ میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ تاہم، امپھال ہلز، منی پور سے تعلق رکھنے والے رینو نے قومی سطح پر آسام کی نمائندگی کی اور سونیا چانو اور سندھیا رانی دیوی کے بعد تمغہ جیتنے والی ریاست کی تیسری ویٹ لفٹر بن گئیں۔رینو کو ان کی پہلی بڑی کامیابی 2006 کے کامن ویلتھ گیمز میں ملی۔ اس مقابلے میں انہوں نے خواتین کے 58 کلوگرام وزن کے زمرے میں طلائی تمغہ جیتا۔ رینو نے کھیلوں کے اگلے ایڈیشن میں بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 2010 کے کامن ویلتھ گیمز میں 197 کلوگرام وزن اٹھا کر اپنا دوسرا طلائی تمغہ جیتا۔رینو بالا کاان کامیابیوں کے بعد حوصلہ اور بلند ہوا۔ انہوں نے ریاست سے باہر نکل کر اب دولت مشترکہ کھیل جو دہلی میں 2010 میں منعقد ہوئے تھے ، ایک بار پھر اپنے گولڈ میڈل کا دفاع کرنے میں کامیاب رہیں۔ شمال مشرقی سرحدی ریلوے کے ملازم نے اپنی آخری کوشش میں 90 کلو وزن اٹھا کر گیمز اسنیچ کا نیا ریکارڈ بنایا۔ رینو نے اپنے اسنیچ ریکارڈ میں 107 کلوگرام کا اضافہ کرکے 197 کا کل اسکور بنایا اور لگاتار دوسری بار طلائی تمغہ جیتا۔ انہوں نے 2002 کے گیمز کے دوران 88 کلوگرام وزن اٹھا کر کینیڈا کی میریس ٹورکوٹ کا قائم کردہ سابقہ ریکارڈ توڑا اور اپنی اگلی کوشش میں اسے 90 کلوگرام تک بڑھا دیا۔ ان کے قومی ریکارڈ اسنیچ میں 93، کلین جرک میں 119 اور مجموعی طور پر 209 ہیں۔ انہوں نے اپنا گولڈ میڈل ہندوستان کے لوگوں اور ہندوستانی ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کو وقف کیا۔ منی پوری کی ویٹ لفٹر نے خواتین کے 49 کلو گرام کلین اینڈ جرک میں 119 کلو گرام کی شاندار لفٹ کے ساتھ ایک نیا عالمی ریکارڈ بنایا۔انہوں نے تاشقند میں منعقدہ ایشین ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ میں اپنا ذاتی بہترین ریکارڈ بناتے ہوئے 205 کلوگرام یعنی 119 کلو گرام اور 86 کلو گرام وزن اٹھا کر کانسہ کا تمغہ جیتا۔ منی پور کی رینو بالا چانو یومن نے 5 اکتوبر 2010 کو دہلی کے جواہر لال نہرو اسپورٹس کمپلیکس میں خواتین کے 58 کلوگرام وزن کے زمرے میں دولت مشترکہ کھیلوں کے ویٹ لفٹنگ مقابلے میں ہندوستان کے لیے پہلا گولڈ میڈل جیتا۔صدر جمہوریہ ہند پرنب مکھرجی نے رینو بالا چانو کو ارجن ایوارڈ 2014 پیش کیا۔ سال2014 میں، انہیں آسام ویٹ لفٹنگ ایسوسی ایشن اور آسام اولمپک ایسوسی ایشن نے مشترکہ طور پر اعزاز سے نوازا۔ ہندوستانی ویٹ لفٹنگ کی تاریخ کو کئی سالوں میں کچھ بہترین ناموں سے نوازا گیا ہے اور رینو بالا چانو اس وراثت کو آگے بڑھا نے میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ رینو نے 2006 کے کامن ویلتھ گیمز میں خواتین کے 58 کلوگرام زمرے میں سونے کا تمغہ جیت کر نام روشن کیا تھا۔ صحت کے مسائل کی وجہ سے وہ 2010 میں گوانگژو ایشین گیمز اور 2014 میں گلاسگو کامن ویلتھ گیمز میں شرکت نہیں کر پائیں۔بدقسمتی سے ، 2010 کے گیمز کے بعد، چانو کے گردے ٹھیک سے کام کرنا چھوڑ گئے ، جس کی وجہ سے ان کی صحت نے انہیں آگے مقابلوں کی اجازت نہ دی اور اس طرح کھیل کے چند اور اچھے سال رینو کی زندگی سے چھین لیے ۔














