جمہوری اقدات کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ امت شاہ
سرینگر/05اپریل//وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ ملک میں اشتعال انگیز تقاریر اور مذہبی منافرت پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی ۔ انہوںنے کہا کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جس میں ہر کسی مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ مل جل کر صدیوں سے رہ رہے ہیں اور اس ملک کی شانتی کو خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہوگی ۔ مسلم مذہبی رہنماو¿ں کے ایک وفد نے وزیر داخلہ امت شاہ سے دیر رات گئے ملاقات کی۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں بڑھتے ہوئے ’اسلامو فوبیا‘ پر بحث کی گئی۔ وفد کی قیادت ممتاز عالم دین مولانا محمود مدنی کر رہے تھے۔ مولانا مدنی کے علاوہ وفد میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے کمال فاروقی، نیاز فاروقی اور پروفیسر اختر الواسع شامل تھے۔وزیر داخلہ کے ساتھ ملاقات میں رام نومی کے موقع پر مغربی بنگال، بہار اور مہاراشٹر میں ہوئے تشدد اور بہار کے نالندہ میں مدرسہ کو نذر آتش کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ہم جنس شادی اور یکساں سول کوڈ پر بھی بات ہوئی۔ مسلم وفد نے امت شاہ کو مسلمانوں سے متعلق مسائل کے بارے میں ایک پریزنٹیشن بھی دیا۔ملاقات کے دوران ہریانہ میں جنید اور ناصر کو زندہ جلانے پر بھی بات ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی مسلم مذہبی رہنماو¿ں نے بھی بی جے پی لیڈروں کے بیانات کو لے کر وزیر داخلہ امت شاہ کے سامنے اپنی بات رکھی۔ انہوں نے کہا کہ اکثر حکومت کی خاموشی سے مسلمانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔وہیں، وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ لنچنگ اور نفرت انگیز تقریر جیسے معاملات پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ وفد نے کرناٹک میں پسماندہ مسلمانوں کے لیے ریزرویشن کے خاتمے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ مذہبی رہنماو¿ں نے یکساں سیول کوڈ کے بارے میں امت شاہ کا موقف جاننے کی کوشش کی، حالانکہ وزیر داخلہ نے فی الحال اس پر کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا۔













