پنجاب میں،خالصتان کی حامی تنظیم’ وارث پنجاب دے‘سےتعلق رکھنے والےہزاروں افرادنےجمعرات کو امرتسر کے اجنالہ پولیس اسٹیشن پرحملہ کردیا۔پنجاب میں،خالصتان کی حامی تنظیم’ وارث پنجاب دے‘سےتعلق رکھنے والےہزاروں افرادنےجمعرات کو امرتسر کے اجنالہ پولیس اسٹیشن پرحملہ کردیا۔ان کے ہاتھوں میں بندوقیں اور تلواریں تھیں۔یہ لوگ تنظیم کے سربراہ امرت پال سنگھ کے قریبی لوپریت سنگھ طوفان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کر رہےتھے۔ان کے حملےکےبعد دباو? میں ا?نے والی پنجاب پولیس نے ملزمین کو رہا کرنے کا اعلان کر دیا۔ پولیس نےمشتعل ہجوم کو روکنے کیلئے بیریکیڈ کھڑےکر دیئےتھےلیکن وہ انہیں توڑ کر اندر داخل ہو گئے۔ دھکا مکی میں۶?پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔امرت پال سنگھ نے کہا”پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہےکہ وہ گر کر زخمی ہوئے تھے۔ ہمارے ۱۰?تا ۱۲?لوگوں کوچوٹیں ا?ئی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ طوفان سنگھ کو۲۴?گھنٹے کے اندر رہا کیا جائے۔ امرت پال کی وارننگ امرتسر کے پولیس کمشنر جسکرن سنگھ کے بیان کے بعدسامنے ا?ئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”طوفان کورہا کیا جارہا ہے۔ ان کے حامیوں نےان کی بے گناہی کے کافی ثبوت دیے ہیں۔معاملے کی جانچ کے لیے ایس پی تیج بیر سنگھ ہنڈل کی قیادت میں ایک خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس ا?ئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے۔ امرتسردیہی ایس ایس پی ستیندر سنگھ نے کہا کہ امرت پال سنگھ کےساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے۔ امرت پال اور ان کے حامیوں کی طرف سے دیے گئےثبوتوںسےواضح ہے کہ طوفان موقع پر موجود نہیں تھا۔جمعہ کو عدالت میں درخواست دے کراسےرہا کر دیا جائے گا۔ امرت پال سنگھ نے کہا ہے کہ جب تک پولیس تحریری بیان نہیں دیتی وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ تحریری بیان کےبعد تھانہ خالی کر دیا جائے گا۔لیکن اجنالہ میں کیس ختم ہونے تک ڈٹے رہیں گے۔ امرت پال نے ہی حامیوں سے جمعرات کو صبح ۱۱?بجے اجنالہ پہنچنے کو کہاتھا۔ اس کے بعد یہاں بھیڑ جمع ہوگئی۔صورتحال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے پولیس بھی متحرک ہوگئی اور امرت پال کے حامیوں کے پہنچنے سےپہلے ہی اس کے حامیوں کو گرفتار کرناشروع کردیا۔ اس سے ماحول گرم ہوگیا۔ہنگامہ آرائی کی اطلاع ملتےہی امرت پال بھی اجنالہ تھانے پہنچ گئے۔یہاںانہوں نے ایس ایس پی ستیندر سنگھ سے ملاقات کی۔پولیس کو دکھانے آئے ہیں کہ ہم کیا کر سکتے ہیں: امرت پال کی دھمکی
امرت پال نے اپنے بیان میں پولیس کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ایک شخص کے بیان پر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ میں صرف یہ کہتا ہوں کہ وزیر اعلیٰ نے مجھ پر حملہ کیا۔ وزیراعلیٰ کے خلاف مقدمہ درج کر کے دکھائیں۔ پولیس بار بارٹٹولتی(جانچ کرتی)ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔ ہم یہاں یہ دکھانے کے لیے آئے ہیں کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔ امرت پال نے کہا”امت شاہ نے کہا تھا کہ وہ خالصتان تحریک کو بڑھنے نہیں دیں گے۔ میں نے کہا کہ اندرا گاندھی نےبھی ایسا ہی کیا تھا اور اگر آپ نے ایساکیا تو آپ کو اس کا خمیازہ بھگتناپڑے گا۔ اگر وزیر داخلہ ہندو راشٹر کا مطالبہ کرنے والوں سے یہی کہتے ہیںتو میں دیکھوں گا کہ کیا وہ وزیر داخلہ بنے رہتے ہیں؟“ امرتسر کے اجنالہ پولیس اسٹیشن میں امرت پال، اس کے ساتھی طوفان سنگھ سمیت کل۳۰?افراد کےخلاف معاملہ درج کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر امرت پال کے خلاف تبصرہ کرنے والے نوجوان کو اغوا کرنے کے بعد اس کی بری طرح پٹائی کی تھی۔اسی کیس میں طوفان کو گرفتار کیا گیا تھ














