اسرائیل اور فلسطین میں کشیدگی کے خاتمے کی کوششوں کے درمیا ن اسرائیلی فوج کی کارروائی میں ۱۰ فلسطینی جاں بحق ہو گئے۔ اس اقدام سے پورے فلسطین میں غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔ فلسطین کی اہم شخصیتوں اور تنظیموں نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔فلسطین نے اسے اسرائیلی فوج کی دہشت گردی قر اردیا اور اس معاملے پر اقوام متحدہ میں فلسطین کے نمائندے نے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔ اسی دوران فلسطین نے بھی جوابی حملہ کیا۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے بدھ کی شام چند فلسطینی نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے بہانے مغربی کنارے کے شہر نابلس پر دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں کم از کم ۱۰? فلسطینیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جبکہ سو سے زائد فلسطینیوں کو کو زخمی کر دیا گیا۔اقوام متحدہ میں فلسطینی اتھاریٹی کے نمائندے نے اس اقدام پر سخت برہمی ظاہر کرتے ہوئے سیکوریٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ نابلس میںقتل عام کی تفصیل اور فلسطینی عوام کے مطالبات سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ فلسطینی نمائندے نے مزید کہا کہ اسرائیل فوج سال کے ا?غاز سے اب تک۶۱? فلسطینیوں کو شہید کر چکی ہے جس میں۱۲بچے شامل ہیں۔دوسری جانب جہاد اسلامی تنظیم کے سربراہ زیاد النخالہ نے بھی اسے ایک بڑا مجرمانہ اقدام قرارد اور خبر دار کیا کہ اس کا جواب ضرور دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس مجرمانہ اقدام کے بعد ہم پر مزاحمتی تنظیم ہونے کے سبب یہ فرض ہو جاتا ہے کہ ہم اس کا بہر صورت جواب دیں۔ ا±دھر فلسطین نے بھی نابلس میں اپنے شہریوں کے قتل عام کے جواب میں اپنی سرحدوں کے قریب اسرائیلی بستیوں پر راکٹ برسائے جس کے بعد اسرائیلی علاقوں میں خطرے کے سائرن کی صدائیں گونجنے لگیں۔ اس سے قبل نابلس میں فلسطینیوں کے قتل عام اور پھر حماس کے سخت انتباہ کے بعد اسرائیل نے غزہ سے متصل اپنی سرحدوں پر مامور اپنی فوجیوں کو الرٹ کردیا ہے۔ اسی دوران اسرائیل نے غزہ پھر حملہ کرنے کا انتباہ جاری۔














