کہا دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی کے طور پر تمام ریاستوں میں NIA کے دفاتر ہوں گے
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو کہا کہ سرحد پار جرائم سے مو¿ثر طریقے سے نمٹنا ریاستوں اور مرکز کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔انہوںنے کہاکہ ہمارے آئین میں امن و امان ریاست کا موضوع ہے لیکن ہم سرحد پار یا سرحدی جرائم کے خلاف اسی وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جب تمام ریاستیں مل بیٹھ کر ان پر غور کریں، مشترکہ حکمت عملی بنائیں اور ان کو روکنے کے لیے کوششیں کریں۔ مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ سورج کنڈ ہریانہ میں، وزیر اعظم نریندر مودی کی یوم آزادی کی تقریر میں اعلان کردہ ’ویژن 2047‘ اور ’پنچ پران‘ کے نفاذ کے لیے ایکشن پلان تیار کرنے کے مقصد سے منعقدہ 2روزہ ’چنتن شیویر‘ یاجائزہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے،جس میں سبھی ریاستوں اورمرکزی زیرانتظام علاقوں کے وزرائے داخلہ ،داخلہ سیکرٹریڑ،پولیس سربراہان اوردیگر اعلیٰ حکام شرکت کررہے ہیں۔وزیراعظم مودی جمعے کے روز اس جائزہ اجلاس سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب کریں گے ۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنی تقریر میں کہاکہ یہ ریاستوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کو خوف سے پاک بنانے کے لئے ملک کی سرحدوں یا ریاستوں کی سرحدوں یا علاقائی جرائم سے مو¿ثر طریقے سے نمٹیں،اوراس میں مرکزی حکومت ریاستوں اورمرکزی زیرانتظام علاقوں کو تمام درکار تعاون فراہم کرے گی ۔انہوںنے مزیدکہاکہ ’شیویر‘ یا جائزہ اجلاس سائبر جرائم، منشیات اور سرحد پار دہشت گردی کے خلاف حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ایک اچھا پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔امت شاہ نے کہا کہ ”ہمیں وسائل کی معقولیت پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی“۔مرکزی وزیرداخلہ نے کہا کہ مودی حکومت نے داخلی سلامتی کے تمام محاذوں پر کامیابی درج کی ہے چاہے وہ جموں و کشمیر ہو، شمال مشرق ہو یا منشیات کی اسمگلنگ۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی کے طور پر تمام ریاستوں میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کے دفاتر ہوں گے۔انہوںنے کہاکہ ہماری داخلی سلامتی کو مضبوط سمجھا جاتا ہے۔امت شاہ نے یہ نوٹ کرتے ہوئے کہا کہ 35000پولیس اور سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز کے اہلکاروں نے ملک کے اتحاد اور سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔اس دوروزہ اجلاس میںسائبر کرائم مینجمنٹ کے لیے ایکو سسٹم کی ترقی، پولیس فورسز کی جدید کاری، فوجداری انصاف کے نظام میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ، لینڈ بارڈر مینجمنٹ اور کوسٹل سیکیورٹی اور دیگر داخلی سلامتی کے امور پر اس تقریب میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔














