خوراک، خام تیل اور کھاد پر غیر ملکی انحصار کم ہو:وزیراعظم مودی
نئی دہلی، 17 اکتوبر (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو خوراک، خام تیل اور کھاد کے لیے بیرونی ممالک پر انحصار کم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ زراعت کو جدید اور پرکشش بنانا ہوگا۔ انڈین ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں وزارت زراعت اور کیمیکلز اور فرٹیلائزر کے زیر اہتمام پی ایم کسان سمان سمیلن سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ زراعت میں استعمال ہونے والی غذائی اشیاءاور چیزوں کے لیے بیرونی ممالک پر انحصار کو کم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خوردنی تیل، خام تیل اور کھاد کی درآمد پر ہر سال لاکھوں کروڑوں روپے بیرونی ممالک کو ادا کرنے پڑتے ہیں۔ حکومت بیرون ملک سے 75 سے 80 روپے کلو میں یوریا خریدتی ہے اور کسانوں کو پانچ سے چھ روپے فی کلو دینا پڑتا ہے ۔ اس سے حکومت پر سالانہ 2.5 لاکھ کروڑ روپے کا بوجھ پڑتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بائیو فیول پر کام جاری ہے اور گاڑیاں ایتھنول سے چلائی جارہی ہیں۔ خوردنی تیل کی پیداوار بڑھانے کے لیے مشن پام آئل بھی جاری ہے ۔ تیل کے بیجوں کی پیداوار بڑھا کر خوردنی تیل کی درآمدات کو کم کیا جا سکتا ہے ۔ کسانوں نے دالوں کی درآمدات میں کمی کرکے اس کی پیداوار میں 70 فیصد اضافہ کر کے دکھایا ہے ۔ زراعت کے میدان میں اسٹارٹ اپس کے بڑھتے ہوئے رول کے بارے میں بات کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ زراعت کو منافع بخش بنانے میں اس کا بڑا تعاون ہے ۔ جہاں پہلے 100 اسٹارٹ اپ تھے اب ان کی تعداد بڑھ کر 3000 ہوگئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پراسیسڈ فوڈ میں بھی حصہ داری بڑھ رہ ہے اور 2014 سے پہلے ملک میں صرف دو بڑے فوڈ پارک تھے جو اب بڑھ کر 23 ہو گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان زرعی برآمدات کے لحاظ سے دنیا کے ٹاپ 10 ممالک میں شامل ہو گیا ہے ۔ کورونا بحران کے دوران ملک سے زرعی برآمدات میں 18 فیصد اضافہ ہوا۔ گجرات سے کملم پھل برآمد کیا جا رہا ہے ۔ جلگا¶ں سے کیلا، بھاگلپور سے آم، ہماچل پردیش سے کالا لہسن اور ملک کے دیگر کئی حصوں سے مختلف اقسام کے پھل برآمد کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران آبپاشی کے شعبے میں بہت اچھا کام ہوا ہے ہے ۔ اس مدت کے دوران تقریباً 70 لاکھ ہیکٹر رقبہ کو مائیکرو اریگیشن کے تحت لایا گیا ہے ۔ قدرتی کھیتی کے بارے میں کسانوں میں بیداری بڑھی ہے اور گجرات، ہماچل پردیش، آندھرا پردیش، اتر پردیش اور اتراکھنڈ میں اس پر کام کیا جا رہا ہے ۔ گجرات میں پنچایت سطح پر قدرتی کھیتی کے لیے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ قدرتی زراعت کو نئی منڈیاں مل رہی ہیں۔














