پولنگ سٹیشنوں کے مجوزہ ڈرافٹ کے حوالے سے موصول ہونے والے اعتراضات پر تفصیلی بحث ہوئی
ضلع الیکشن آفیسر سرینگر محمد اعجاز اسد کی قیادت میں پولنگ مراکز کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی جس میں پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس ، اپنی پارٹی، کانگریس اور دیگر جماعتوں کے مندوبین نے شرکت کی ۔اس سے پہلے ایک اور میٹنگ منعقد ہوئی تھی جس میں سیاسی جماعتوں سے کہا گیا تھا کہ وہ پولنگ مراکز کے حوالے سے اپنی آراءاور تجاویز پیش کریں۔ اطلاعات کے مطابق ضلع الیکشن آفیسر (ڈپٹی کمشنر) سرینگر محمد اعجاز اسد نے آج بینکٹ ہال میں ضلع سرینگر کے تمام 8 اسمبلی حلقوں کے پولنگ اسٹیشنوں،بوتھوں کو معقول بنانے پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ ایک میٹنگ طلب کی۔ یہاں ملاقات کے دوران پولنگ سٹیشنوں کے مجوزہ مسودے پر تفصیلی غور کیا گیا تاکہ اصلاح کے لیے سیاسی جماعتوں کے تبصرے ریکارڈ کیے جا سکیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر نے کہا کہ پولنگ سٹیشنوں ، بوتھوں کے حوالے سے تجویز ووٹرز کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی گئی ہے اور اس میں ووٹر ٹرن آو¿ٹ کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ تمام ضروری سہولیات کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی طرف سے کوئی بھی نئی تجویز جو اصولوں کے اندر آتی ہے اس پر غور کیا جائے گا اور اسے منظور کیا جائے گا۔ ڈی ای او نے پولنگ سٹیشنوں کی معقولیت کے لیے آبادی اور فاصلے کے توازن کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ الیکشن آفس اور تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان تعاون پر بھی زور دیا تاکہ رایئے دہندگان کو بغیر کسی دشواری کے اپنا ووٹ ڈالنے میں سہولت فراہم کی جائے۔انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو یقین دلایا کہ ضلع سرینگر میں پولنگ سٹیشنوں کو درست کرنے کا کام تمام سیاسی جماعتوں کے اطمینان کے ساتھ مکمل کیا جائے گا۔پولنگ بوتھوں کے حوالے سے میٹنگ کو بتایا گیا کہ ضلع کے تمام 8 اسمبلی حلقوں میں مختلف سیاسی جماعتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی طرف سے پولنگ سٹیشنوں سے متعلق 350 سے زائداعتراضات درج کرائے گئے تھے۔ اسمبلی حلقہ وار تفصیلات بتاتے ہوئے بتایا گیا کہ حضرت بل اسمبلی حلقہ میں کل 50 اعتراضات داخل کیے گئے، خانیار اسمبلی حلقہ میں 173، حبہ کدل میں 04 اعتراضات موصول ہوئے، جبکہ لال چوک میں 10 اعتراضات اور چھانہ پورہ میں 17 اعتراضات موصول ہوئے۔اسی طرح جڈی بل میں 52، عید گاہ میں 27اعتراضات موصول ہوئیں ہیں۔ میٹنگ میں اپنی پارٹی، این سی، بی جے پی، پی ڈی پی، انڈین نیشنل کانگریس، نیشنل پاتھرز پارٹی، پیپلز کانفرنس سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے علاوہ دیگر آزاد سیاسی قائدین اور مقامی محلہ کمیٹیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔














