میر یج ہال اور تین دیگر ڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچ گیا ، کئی کنبے کھلے آسمان تلے زندگی بسر کرنے پر مجبور
سرینگر کے خانیار علاقے میں آگ کی ایک ہولناک واردا ت میں دارالعلوم اور دو رہائشی مکانات خاکستر ہو گئے جبکہ میر یج ہال اور تین دیگر ڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچ گیا ۔ اس ضمن میں نمائندے نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ لون محلہ ناﺅپورہ خانیار علاقے میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات کو اس وقت سنسنی کا ماحول پھیل گیا جب ایک رہائشی مکان سے اچانک آگ نمودار ہوئی ۔ معلوم ہوا ہے کہ آگ اس وقت ہولناک تھی کہ دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے اپنے متصل کئی مکانوں کو اپنی لپیٹ میںلیا ۔ آگ لگنے کے ساتھ ہی مقامی نوجوانوں نے آگ پر قابو پانے کیلئے کارروائی شروع کردی جبکہ ساتھ ہی محکمہ فائر ایند ایمر جنسی کو مطلع کیا جنہوں نے آگ پر قابو پانے کیلئے کارروائی شروع کردی تاہم جب تک آگ پر قابو پا لیا گیا تب تک آگ سے دارالعلوم اور دو رہائشی مکانات خاکستر ہو گئے جبکہ میر یج ہال اور تین دیگر ڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچ گیا تھا ۔ فائر اینڈ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے ایک سنیئر افسر نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بروقت کارورائی سے آگ کو مزید گھروں تک پھیلنے سے روک دیا۔ان کا کہنا تھا کہ آتشزدگی کے واقعے میں کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ آگ لگنے کی وجہ کے بارے میں پوچھے جانے پر ان کا کہنا تھا کہ پولیس اس کی تحقیقات کر رہی ہے۔ ادھر نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگرنے شہر خاص کے لون محلہ ناﺅپورہ میں ہولناک آگ کی واردات میں متعدد رہائشی ، میرج ہال اور دار لعلوم کے خاکستر ہونے پر گہرے صدمے کا اظہار کیاہے اور متاثرین کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا ہے۔ انہوں نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کی کہ متاثرین کے حق میں معقول مالی امداد کے علاوہ عارضی قیام و طعاوم کا بندوبست بھی کیا جائے۔ انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ متاثرین کی بازآبادکاری ترجیحاتی بنیادوں پر ممکن بنائی جائے۔ انہوں نے صاحب ثروت لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ متاثرہ دارالعلوم کی تعمیر نو میں اپنا بھر پور تعاون پیش کریں۔ ادھر پارٹی کے صوبائی یوتھ صدر سلمان علی ساگر نے یہ خبر سنتے ہی جائے واردات پر جاکر متاثرین کیساتھ اظہارِ یکجہتی اور ہمدردی کیا اور آگ سے ہوئے نقصان کا جائزہ لیا۔ انہوں نے انتظامیہ کے کئی افسران سے رابطہ کرکے متاثرین کی بازآبادکاری کیلئے بھی زور دیا۔














