اومیکرون زیادہ تیزی سے پھیلنے اور زیادہ مہلک ہے ، قبل از وقت احتیاطی تدابیر اُٹھانے کا دیا مشورہ
سرینگر/28 نومبر/سی این آئی// عالمی سطح پر کووڈ کے نئے ویرینٹ ”اومیئیکرون“نمودار ہونے کے پیش نظر ڈاکٹرس ایسوسی ایشن ڈاکٹر نثارالحسن نے کووڈ19کے مثبت نمونوں میں اس ویرینٹ کی جانچ کرنے پر زور دیا ہے تاکہ وادی میں اس نئے قسم کے وائرس کا قبل از وقت پتہ لگایا جاسکے ۔ڈاک کاکہنا ہے کہ چونکہ وادی کشمیرایک عالمی سیاحتی مقام کی حیثیت رکھتا ہے اور یہاں پر انٹرنیشنل ائرپورٹ بھی فعال ہے اسلئے اس نئے ویرینٹ کے خدشات کے حوالے سے ہمیں زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کووڈ کے نئے ویرنٹ کا پتہ لگانے کےلئے ہمیں ”genome sequencing“کی ضرورت ہے تاکہ اس نئے ویرینٹ کے پھیلنے سے قبل ہی اس کا پتہ لگاکر روکنے کےلئے اقدامات اُٹھائے جاسکیں کیوں کہ یہ دیگر اقسام کے نبسبت زیادہ مہلک اور زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مانا جاتا ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ اس نئے ویرینٹ کا جتنا جلدی پتہ لگایا جائے گا اس کو کنٹرول کرنے کےلئے طبی پالیسی اور حکمت عملی بھی جلدی تیاری کی جاسکتی ہے تاکہ یہ زیادہ تیزی کے ساتھ نہ پھیل سکے اور اس کے اثرات کو کم کیا جاسکے۔ڈاک کے صدر نے کہا ہے کہ Genome sequencingایک لیبارٹری عمل ہے جس کو وائرس کی جنیٹک تبدیلی کا پتہ لگایا جاسکتا ہے ۔ کووڈ19کی یہ نئی ہیت B.1.1.529جنوبی افریقہ میں پایا گیا ہے اس کے علاوہ اس کو بوتسوانا، بلجیم ، ہانگ کانگ اور اسرائیل میں بھی پایا گیا ہے ۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ اس وائرس کی 32تغیرات دیکھی گئی ہیںجو وائرل سپائیک پروٹین کی پیداوار کو کنٹرول کرتے ہیں۔وائرس کا سپائیک پروٹین وائرل بائنڈنگ اور انسانی خلیوں میں داخل ہونے کے لیے اہم ہے۔ یہ اینٹی باڈیز کا سب سے بڑا ہدف بھی ہے جو کووڈ-19 انفیکشن سے لڑنے کے لیے مدافعتی نظام تیار کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ امیکرون کے نام کا یہ ویرینٹ کافی زیادہ مہلک ہے اور عالمی صحت ادارہ نے بھی اس کو تشویشناک قراردیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ا س وائرس کو اس لئے تشویشناک قراردیا گیا ہے کیوںکہ اس ویرینٹ کے بارے میں دیکھا گیا ہے کہ یہ زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس سے متاثرہ شخص سخت علیل ہوجاتا ہے کیوں کہ کووڈ کے خلاف علاج کا اس پر کم ہی اثر پڑتا ہے خاص طور پر ویکسین بھی اس کے اثر کو کم نہیں کرسکتا ہے جبکہ کووڈ کاموثر طریقہ علاج بھی اس پر اثر انداز نہیں ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ میںاس نئی قسم کے نمودار ہونے کے بعد نئے کیسز کی تعداد میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یورپ، امریکہ اور کینیڈا سمیت کئی ممالک نے جنوبی افریقہ اور کئی دیگر افریقی ممالک سے سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ادھر ڈاک ترجمان ڈاکٹر ریاض احمد ڈگہ نے کہا کہ آج کی اس دنیا میں وباءکا تیزی کے ساتھ پھیلنا ناممکن نہیں ہے کیوںکہ دنیاایک دوسرے سے جڑے ہوئی ہے خاص کر سفری سہولیات سے کسی بھی طرح کی وباءکا پھیلانے کا خطرہ ہر جگہ ہے ۔انہوںنے بتایا کہ کشمیر سب سے پسندیدہ سیاحتی مقام ہونے کی وجہ سے یہ نیا وائرنٹ کسی بھی وقت ہمارے پاس آ سکتا ہے














