شہریوں کے لاشوں کی واپسی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا
سیاسی لیڈران اور عام لوگ ٹویٹس سے آگے نکل کر انصاف کے لئے ہمارے احتجاج میں شامل ہو جائے:لواحقین
حیدر پورہ تصادم میں بدھ کو کراس فائرنگ میں مارے گئے عمارت کے مالک الطاف احمد کے اہل خانہ نے پریس انکلیو سری نگر میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے مقتول کی لاش کو بغیر کسی تاخیر کے واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔ احتجاج میں شامل لوگوں نے تمام لوگوں خاص کر سابق وزراءاعلیٰ سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹویٹ سے آگے نکل کر ان کے احتجاج میں شامل ہو جائے ۔ تاکہ مقتول الطاف احمد اور ڈاکٹرمدثر گل کی مناسب تدفین کی جائے۔تفصیلات کے مطابق حیدر پورہ جھڑپ میں مارے گئے شہریوںجن میں ڈاکٹر مدثر اور الطاف احمد ڈار کے لواحقین نے بدھ کے روز دوسرے دن بھی لاشوں کی واپسی اور اس واقعے کی اعلی پائیہ تحقیقات کا مطالبے کو لے کر زور دار احتجاج کیا ۔دونوں خاندانوں کے لوگ پریس کالونی میں داخل ہوئے اور زورو قطار رونے لگا ہیں ۔ وہ لاشوں کی باعزت تدفین کے لئے احتجاج کر رہے تھے ۔اس دوران یہاں الطاف احمد بٹ کے بھائی نے کہا ہم مقتول الطاف احمد کی لاش کو بغیر کسی تاخیر کے واپس لانے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ اگر پولیس ہمیں اس کی لاش واپس نہیں دیتی ہے، تو ہم تمام سڑکیں بلاک کر دیں گے اور سڑکوں پر احتجاج کریں گے ۔سٹی رپوٹر کے مطابق الطاف کے بھائی ڈاکٹر حنیف احمد نے کہا۔ انہوں نے کہا کہ تمام سابق وزرائے اعلیٰ – عمر عبداللہ، ان کے والد فاروق عبداللہ، اور محبوبہ مفتی، اور سیاست دانوں جیسے غلام نبی آزاد اور دیگر کو ٹویٹر کے رد عمل سے آگے بڑھ کر سڑکوں پر احتجاج میں خاندان کے ساتھ شامل ہونا چاہیے

SRINAGAR, NOV 17 (UNI) Families of two men killed in Hyderpora encounter stages a protest in Srinagar and demanded return of the bodies, on Wednesday..UNI PHOTO SRN8.
۔انہوں نے کہا آج ہمارے ساتھ ایسا ہوا ہے اور کل آپ کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہم کشمیر میں رہنے والے تمام مسلمانوں، سکھوں اور کشمیری پنڈتوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ احتجاج میں شامل ہوں اور ہمیں دکھائیں کہ ہم سب ایک ہیں،“ ڈاکٹر حنیف نے کہا۔ انہوں نے کہا کہ جب کشمیر کے پولیس سربراہ وجے کمار نے خود اعتراف کیا ہے کہ الطاف ایک عام شہری تھا اور کراس فائرنگ میں مارا گیا تھا، تو کس چیز نے انہیں ”میرے بھائی کی لاش کو تدفین کے لیے ہندواڑہ لے جانے پر مجبور کیا“۔ انہوں نے کہا، ”ہم آئی جی پی سے الطاف کی لاش واپس کرنے کی اپیل کرتے ہیں اور ساتھ ہی اس معاملے میں ایل جی منوج سنہا کی مداخلت بھی چاہتے ہیں۔“الطاف حیدر پورہ انکاو¿نٹر میں مارے گئے چار افراد میں شامل تھا۔ منگل کو آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے کہا کہ عمارت کا مالک الطاف کراس فائر میں مارا گیا اور چاروں مقتولین کی لاشوں کو تدفین کے لیے ہندواڑہ لے جایا گیا۔اس دوران یہاں داکٹر مدثر کی دوسری اہلیہ اور باقی افراد کانہ بھی احتجاج میں شامل تھے جنہوں نے پریس کانوںمیں دھرنا دیا ہے ۔انہوں نے کہا میری ایک سالہ بیٹی روتی ہے ‘بابا، بابا’؛ براہ کرم اس کے والد کی لاش واپس کریں: مقتول ڈاکٹر مدثر کی اہلیہ نے ایل جی منوج سنہا کی درخواست کی۔انہوں نے کہا کہ میرا شوہر OGW نہیں بلکہ ‘معصوم’، راولپورہ میں ایک شادی کی تقریب میں، پولیس افسران، سول ایڈمن افسران نے مدثر کے ساتھ لنچ کیا۔ اس کے عسکریت پسند روابط کے ثبوت دیں، اہل خانہ کا پریس انکلیو میں احتجاج۔ ڈاکٹر مدثر گل کی اہلیہ حمیرا گل نے بدھ کو پریس کالونی میں خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ احتجاجی مظاہرہ کیا اور بتایا کہ ان کی ایک سالہ بیٹی رو رہی ہے، بابا، بابا اور اس کے پاس کوئی نہیں ہے۔ اس کے جوابات اس نے کہا کہ پولیس کو اس بات کا ثبوت پیش کرنا چاہیے کہ اس کا شوہر OGW تھا اور حقیقت یہ ہے کہ "میرے شوہر کا کوئی عسکریت پسندانہ روابط نہیں تھا اور وہ صاف ستھرے طریقے سے اپنی روزی روٹی کما رہے تھے۔” میری سالہ بیٹی کل سے اپنے باپ کو ڈھونڈتی ہوئی رو رہی ہے، اور میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔ میں ایل جی منوج سنہا سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ میری بیٹی کو اپنے والد سے آخری بار ملنے کی اجازت دیں،“ بتایا۔حمیرہ نے بتایا جو لڑکا رام بن کا تھا جس کو جنگجوﺅں بتاتے ہیں وہ بھی عام شہری تھا جو ہمارے پاس آفس بائی کے طور کام کرتا تھا جس کی مہانہ تنخواہ10ہزار روپے میں ہی اکاونٹ میں تبدیل کرتے تھے ۔انہوں نے لاش کو اپس کرنے کا مطالبہ دہرایا ۔















