نئی دہلی۔ 11؍ اگست۔ ایم این این۔وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے بابا کھڑک سنگھ مارگ پر اراکین پارلیمنٹ کے لیے 184 نو تعمیر شدہ ٹائپ کثیر منزلہ فلیٹس کا افتتاح کیا۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں انہوں نے کرتویہ پتھ پر کرتویہ بھون کے نام سے موسوم کامن سنٹرل سکریٹریٹ کا افتتاح کیا تھا اور آج انہیں اراکین پارلیمنٹ کے لیے نئے تعمیر شدہ رہائشی کمپلیکس کا افتتاح کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے ہندوستان کی چار بڑی ندیوں کے نام سے موسوم کئے گئے چار ٹاور – کرشنا، گوداوری، کوسی اور ہگلی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ دریا، جو لاکھوں لوگوں کو زندگی بخشتے ہیں، اب عوامی نمائندوں کی زندگیوں میں خوشی کی نئی لہر کی تحریک کا باعث بنیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دریاؤں کے نام پرنام رکھنے کی روایت قوم کو اتحاد کے دھاگے میں باندھ دیتی ہے۔ جناب نریندر مودی نے کہا کہ نئے کمپلیکس سے دہلی میں ارکان پارلیمنٹ کے رہنے میں آسانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں اراکین پارلیمنٹ کے لیے سرکاری رہائش کی دستیابی میں اضافہ ہوگا۔ وزیر اعظم نے تمام ممبران پارلیمنٹ کو مبارکباد پیش کی اور فلیٹس کی تعمیر میں شامل انجینئروں اور مزدوروں کی بھی تعریف کی، پروجیکٹ کو مکمل کرنے میں ان کی لگن اور محنت کی ستائش کی۔وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں اراکین پارلیمنٹ کے لیے نو تعمیر شدہ رہائشی کمپلیکس کے ایک نمونہ فلیٹ کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پرانے ایم پی کی رہائش گاہوں کی حالت کا مشاہدہ کرنے کے مواقع بھی ملے ہیں۔ جناب نریندر مودی نے تبصرہ کیا کہ پرانی رہائش گاہیں اکثر نظر اندازی اور بدحالی کا شکار رہتی ہیں، جس سے ارکان پارلیمنٹ کو اپنی رہائش گاہوں کی خراب حالت کی وجہ سے بار بار درپیش پریشانیوں کی شکایت کرنی پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی اقامت گاہوں سے ارکان پارلیمنٹ کو اپنے نئے گھروں میں داخل ہونے کے بعد اس طرح کے چیلنجوں سے چھٹکارہ مل جائے گا۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ جب اراکین پارلیمنٹ رہائش کے ذاتی مسائل سے آزاد ہوں گے تو وہ اپنا وقت اور توانائی زیادہ مؤثر طریقے سے عوامی مسائل کے حل کے لیے وقف کر سکیں گے۔جناب نریندر مودی نے پہلی بار منتخب ہونے والے ممبران پارلیمنٹ کو دہلی میں رہائش گا ہیں حاصل کرنے میں درپیش چیلنجوں کو اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ نئی تعمیر شدہ عمارتوں سے ان مشکلات کاخاتمہ ہوجائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ 180 سے زائد ارکان پارلیمنٹ ان کثیرمنزلہ عمارتوں میں ایک ساتھ رہائش پذیر ہوں گے اورانہوں نے ہاؤسنگ کی اس نئی پہل کی نمایاں اقتصادی جہت کو بھی اجاگر کیا ۔ کرتویہ بھون کے افتتاح کاذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہاکہ کئی وزارتیں کرائے کی عمارتوں سے کام کر رہی ہیں، جن کا سالانہ کرایہ تقریباً 1,500 کروڑ روپے ہے، اور اسے عوامی فنڈ کا براہ راست ضیاع قرار دیا ہے۔ اسی طرح، انہوں نے واضح کیا کہ مناسب ایم پی ہاؤسنگ کافقدان حکومتی اخراجات میں اضافے کا بھی باعث بنا ہے۔ جناب نریندر مودی نے نشاندہی کی کہ ایم پی کی رہائش گاہوں کی کمی کے باوجود 2004 سے 2014 کے درمیان لوک سبھا کے اراکین کے لیے ایک بھی نئی ہاؤسنگ یونٹ تعمیر نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 2014 کے بعد، ہماری حکومت نے اس کام کو ایک مشن کے طور پر شروع کیا اور 2014 سےنئے فلیٹس سمیت تقریباً 350 ایم پی کی رہائش گاہوں کی تعمیرکی گئی ہے۔ ان رہائش گاہوں کی تعمیر ہونے سے اب عوام کا پیسہ بچایا جا رہا ہے۔













