نئی دہلی۔ 8؍اگست ۔ ایم این این۔وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی زیر صدارت مرکزی کابینہ نے مالی سال 2025-26 کے دوران پردھان منتری اجولا یوجنا (پی ایم یو وائی) کے مستفیدین کو 14.2 کلو کے سلنڈر پر فی ریفل 300 روپے کی ہدفی سبسڈی کی منظوری دے دی ہے، جو سالانہ زیادہ سے زیادہ 9 ریفلز کے لیے دستیاب ہوگی (جبکہ 5 کلو کے سلنڈر کے لیے یہ سبسڈی متناسب طور پر دی جائے گی)۔ اس اسکیم پر حکومت 12,000 کروڑ روپے خرچ کرے گی۔پردھان منتری اجولا یوجنا: پردھان منتری اجولا یوجنا (پی ایم یو وائی) کا آغاز مئی 2016 میں کیا گیا تھا، جس کا مقصد ملک بھر کے غریب گھرانوں کی بالغ خواتین کو بغیر ڈپازٹ ایل پی جی کنکشن فراہم کرنا ہے۔یکم جولائی 2025 تک، ملک بھر میں اس یوجنا کے تحت تقریباً 10.33 کروڑ ایل پی جی کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔پردھان منتری اجولا یوجنا (پی ایم یو وائی) کے تمام مستفیدین کو بغیر ڈپازٹ ایل پی جی کنکشن فراہم کیا جاتا ہے، جس میں درج ذیل شامل ہوتے ہیں: سلنڈر کا سیکیورٹی ڈپازٹ، پریشر ریگولیٹر، سرکشا ہوز، ڈومیسٹک گیس کنزیومر کارڈ (ڈی جی سی سی) کتابچہ، انسٹالیشن چارجز۔اجولا 2.0 کی موجودہ پالیسی کے مطابق، پہلا ریفل اور چولہا بھی تمام مستفیدین کو مفت فراہم کیا جاتا ہے۔پی ایم یو وائی کے مستفیدین کو ایل پی جی کنکشن، پہلا ریفل، یا چولہے کے لیے کوئی ادائیگی نہیں کرنی پڑتی کیونکہ ان تمام اخراجات کو حکومتِ ہند یا آئل مارکیٹنگ کمپنیز (او ایم سیز) برداشت کرتی ہیں۔پردھان منتری اجولا یوجنا کے صارفین کے لیے ہدفی سبسڈی: بھارت اپنی ایل پی جی کی ضروریات کا تقریباً 60 فیصد درآمد کرتا ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں ایل پی جی کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے اثرات سےپی ایم یو وائی مستفیدین کو بچانے اور ان کے لیے ایل پی جی کو مزید قابلِ استطاعت بنانے، نیز اس کے مسلسل استعمال کو یقینی بنانے کے لیے، حکومت نے مئی 2022 میں پی ایم یو وائی صارفین کے لیے 14.2 کلو کے سلنڈر پر 200 روپے فی ریفل (سالانہ زیادہ سے زیادہ 12 ریفلز کے لیے، اور 5 کلو والے کنکشنز کے لیے متناسب سبسڈی) کی ہدفی سبسڈی شروع کی۔بعد ازاں اکتوبر 2023 میں حکومت نے اس سبسڈی کو بڑھا کر 300 روپے 14.2 کلو فی سلنڈر کر دیا، جو سالانہ 12 ریفلز (اور 5 کلو کے کنکشنز کے لیے متناسب طور پر( تک دی جاتی ہے۔












